تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 99
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اکتوبر 1982ء نقشت في العقد کے بعد حاسد کے حسد کا مضمون رکھا گیا۔یہ کیوں ہے؟ بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ حاسد کے حسد کے نتیجہ میں ہی تو وہ پھونکیں ماری جائیں گی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہاں ایک اور مضمون بیان ہو رہا ہے۔مراد یہ ہے کہ دشمنوں پر دو دور آتے ہیں۔ایک نفرت اور حقارت کا وہ دور، جب کہ وہ خدا تعالیٰ کے قافلوں کی راہ میں حائل ہونے کی اور ان کے تعلقات میں زہر گھولنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن وہ نا کام کر دیئے جاتے ہیں۔جب وہ قافلہ ان کوششوں کے باوجود آگے بڑھ جاتا ہے اور ترقی کی نئی نئی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے تو اس وقت حاسدوں کے حسد کی نظریں پڑتی ہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ایک بے اختیاری کا عالم ہے، غیظ و غضب کا عالم ہے لیکن بس کوئی نہیں ہوتا۔لیکن اس حسد کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ نقصانات پہنچ جاتے ہیں۔کیا باریک فلسفہ ہے، اس حسد کا۔اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔لیکن حسد کے نتیجہ میں انسان تاک میں لگارہتا ہے۔بعد کے مواقع میں اس کا غصہ بغض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایسے کینہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو اس کی فطرت میں گس گھولنے لگ جاتا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ آپ کے تعلقات میں گس گھولے۔یعنی اندرونی مضمون ہے، جس طرح سانپ کو ڈسنے کا موقع نہیں ملتا اور وہ طیش میں بیٹھا ہو کہ میں نے ضرور ڈسنا ہے تو اہل علم جانتے ہیں کہ جتنی دیر اس کے زہر کی تھیلی کو انتظار میں لگتی ہے، اتنا ہی زیادہ زہر اس میں بھرتا چلا جاتا اور خطرناک ہوتا چلا جاتا ہے۔تم دعائیں کرو گے تو ہم تمہیں محفوظ رکھیں گے۔تمہیں بالکل پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔جو خدا کے فضل ہیں، ان فضلوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔صرف تم کر سکتے ہو ( یعنی اپنی بداعمالیوں کے ذریعہ) اگر تم نہ بدلو گے تو میں بھی نہیں بدلوں گا۔تم میرے فضلوں اور رحمتوں کے وارث بنے رہو گے، حق دار بنے رہو گے تو میں فضل بڑھاتا چلا جاؤں گا۔اور دشمن کے زہر سے تمہیں محفوظ رکھوں گا۔لیکن کچھ افعی ایسے بھی رہ جائیں گے، جن کا بس نہیں چلے گا۔وہ ترقیات پر تمہیں گامزن دیکھیں گے تو وہ اپنے اندر کس گھولنے لگیں گے، اپنے زہر کو بڑھاتے چلے جائیں گے۔یہ ہے حسد کا مضمون ، جس پر جا کرتان ٹوٹی ہے، اس سارے مضمون کی۔اور یہ ایک مستقل بغض ہے، جو پیدا ہوتا چلا جائے گا۔اور تمہاری ہر ترقی کے نتیجہ میں یہ بخض بڑھتا چلا جائے گا۔خواہ ان کی کچھ پیش جائے یا نہ جائے۔ایسے حاسد ، ایسے کینہ ور انتظار میں لگے رہتے ہیں۔کسی جماعت سے یا کسی فرد سے کبھی غفلت ہو، اس وقت ان کا داؤ چلتا ہے اور پھر وہ بڑی قوت کے ساتھ ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو ایک دفعہ بچنے کے بعد ہمیشہ کے لئے غافل نہیں ہو جانا۔یہ نہ سمجھنا کہ آگے موت کسی پہلو سے بھی تمہارا انتظار 99