تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 345
تحریک جدید - ایک الہی تحریک ارشادات فرمودہ 30 دسمبر 1982ء ii۔ترسیل کا انتظام اچھا ہو۔اب امریکہ میں اگر ستا چھپے اور اکثر جماعتیں ہماری یورپ اور پاکستان میں ہوں۔وہاں تک پہنچانے کے لئے اخراجات اتنے زیادہ آ جائیں کہ وہ اصل خرچ سے کہیں زیادہ بڑھ جائے تو یہ بھی دیکھنا پڑے گا۔اس لئے اس کا بھی جائزہ لینا ہے ابھی۔اس لئے اتنی جلدی اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا۔جب تک سارے جائزے نہ لے لئے جائیں۔iii۔تیسرا اس کی Storage capacity ہے۔ہرمشن کی اپنی اپنی ہوتی ہے۔کتابیں اتنی تعداد میں شائع ہوں کہ ان کو سنبھالا بھی جاسکے۔نعوذ باللہ من ذالک دیمک کھا جائے یا مٹی لگ جائے تو ٹھیک نہیں ہے۔تو یہ تین جائزے ہیں، یہ مکمل ہوں گے۔اگر تو مستعد ہوں مشنریز انچارج اپنے اپنے ملک میں جا کر ان تین پہلوؤں سے جائزہ لے کر رپورٹ کریں تو ایک مہینے کے اندر اندر فیصلہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے متعلق جو یہ کہا گیا ہے کہ 84ء میں جاکے پیش ہوں گی، یہ درست نہیں ہے۔فیصلہ تو یہ اسی لئے کیا گیا تھا کہ ہم فوری طور پر جماعت کے سامنے وہ کتب پیش کرنی شروع کردیں۔اور وہ اک مشکل نے ایک سہولت بھی ہمارے لئے پیدا کر دی۔ہے۔رات سے اللہ تعالیٰ دن نکال لیتا ہے۔یہاں جو دقتیں پیش آئیں اشاعت وغیرہ کی ، ان کے سلسلہ میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر جو پرانی طبع شدہ کتاب ہے، اس کا فوٹوسٹیٹ نکال کے اس سے طبع کیا جائے تو وہ وقتیں کم ہو جاتی ہیں۔اور جب دیکھا گیا تو پرانی کتابت اتنی اچھی ہے، اتنی خوبصورت ہے، پتھر کے اوپر چھپی ہوئی سلوں کے اوپر کہ اس کا عکس جو چھوٹا کیا گیا ہے تو موجودہ کاتبوں کی نسبت بہت زیادہ خوبصورت طباعت ہے۔اس میں جو تیں درپیش آئیں سامنے، وہ میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔بظاہر تو یہ ہے کہ فوری اٹھا لیا اور شائع کر دیا۔اس میں ایک وقت یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جو طریق تھا، وہ حاشیے کا اور پھر حاشیے در حاشیے کا اور اس وقت کے علماء اسی طریق سے واقف تھے اور اسی کے مطابق وہ پڑھنے کے عادی تھے۔چنانچہ گزشتہ جتنی کلاسیکل کتابیں ہم نے پڑھیں ، ان میں حاشیے پر حاشیے اور پھر اس کے بعد حاشیے اور بسا اوقات کتاب کا اصل متن بہت چھوٹا ہوتا ہے اور حاشیے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔تو یہ ایک طرز ہے، جو زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔کوئی ایسی طرز نہیں ہے کہ جس کی لازماً حفاظت کی جائے۔لازما گویا کہ ہمارے دین کا حصہ ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بھی وہی طریق 345