تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page v
جماعت احمدیہ کی مخالفت مقامی نوعیت کی حامل تھی۔اور گذشتہ جلسہ سالانہ تک یہی حالت رہی۔اب جماعت احمدیہ کی طرف سے غلبہ اسلام کی اس عظیم اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہونے والی جد و جہد کی مخالفت ایک نئی شکل میں اور ایک اور رنگ میں شروع ہوئی ہے۔اور وہ بین الاقوامی متحدہ کوشش کی شکل میں ہے۔۔۔ظاہر ہے کہ پہلے صوبے کی مخالفت تھی ، پھر ملک کی مخالفت تھی، پھر ملک ملک کی مخالفت تھی، مخالفت میں ترقی ہوتی چلی گئی۔اب ممالک کے اکٹھے ہو کر مقابلے میں آ جانے کا جو منصوبہ ہے، اس سے بڑھ کر اس کرہ ارض پر اور کوئی منصوبہ تصور میں بھی نہیں لایا جاسکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جوخدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور اسی پر اپنا تو کل رکھتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ غلبہ اسلام کی آخری گھڑی قریب آگئی ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 15 فروری 1974ء) گوصد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کا تعلق صرف تحریک جدید انجمن احمدیہ سے نہیں بلکہ ساری جماعت سے تعلق رکھنے والا یہ منصوبہ ہے۔لیکن کیونکہ اس منصوبہ کی تکمیل بہت حد تک تحریک جدید کے ذریعہ ہوئی ، لہذا اس منصوبہ سے متعلقہ مواد کو بھی اس جلد میں شامل کیا گیا ہے۔صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ کا دیگر جماعتی تنظیموں اور تحریکوں سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔۔اس منصوبہ کا صحیح مقام جماعت کو سمجھنا ضروری ہے۔جماعت احمدیہ کا مقصد ہی یعنی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے اس کے قائم کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کیا جائے۔پس جماعت احمدیہ کی پہلی کوشش اور جماعت احمدیہ میں جو پہلی تنظیمیں قائم ہوئیں اور جاری ہوئیں، وہ وہی مقاصد رکھتی ہیں، جو مقصد کہ موجودہ منصو بہ رکھتا ہے۔ان کا ایک ہی مقصد ہے۔چونکہ مقاصد ایک ہی ہیں، اس لئے اگر کوئی تنظیم یہ سمجھے کہ تحریک جدید اور ہے اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا صدرا حجمن احمد یہ کے کام اور ہیں اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا وقف جدید کے کام اور ہیں اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں اور ہیں اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا انصار اللہ کے فرائض اور ہیں اور یہ منصوبہ اور ہے۔بالجنہ اماءاللہ کی کوششیں اور ہیں اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا وقف عارضی کی تحریک اور ہے اور یہ منصوبہ اور ہے۔یا فضل عمر فاؤنڈیشن اور نصرت جہاں ریز روفنڈ یا نصرت جہاں کا منصوبہ کوئی اور حقیقت رکھتا ہے اور یہ منصوبہ