تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page iv
بسم الله الرحمان الرحيم پیش لفظ الہی سلسلوں کی مثال اس سپرنگ کی طرح ہوتی ہے جس کو جس قدر دبایا جائے ، وہ اسی قدر زور سے پھیلتا ہے۔الہی سلسلوں کی بھی جتنی زیادہ مخالفت ہوتی ہے، وہ اتنی ہی زیادہ ترقی کرتے ہیں۔اور جتنی زیادہ ترقی ہوتی ہے، مخالفت میں بھی اتنی ہی تیزی اور پھیلا ؤ آجاتا ہے۔اور یہ شکش اس آخری فتح مبین تک جاری رہتی ہے، جو ہمیشہ سے الہی سلسلوں کا مقدر ہوتی ہے۔1974 ء سے جماعتی تاریخ کے جس دور کا آغاز ہوا، وہ بھی اسی کشمکش کا ایک باب ہے۔جماعت احمدیہ کے قیام توحید اور غلبہ اسلام کے منصوبوں میں تیزی اور شدت پیدا کرنے کے لئے 1973ء میں حضرت خلیفة المسیح الثالث نے صد سالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ کا آغا ز فرمایا اور 1974ء میں وہ حالات پیدا کر دیئے گئے ، جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں۔حضرت خليفة المسيح السالت اس کشمکش اور ان حالات کا ذکر یوں فرماتے ہیں:۔۔۔اس وقت تک اسلام کی اشاعت میں ہماری جو جد و جہد تھی ، اس کی شکل حقیقی طور پر بین الاقوامی گروہوں کی بین الاقوامی کوشش کے خلاف نہیں تھی۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعوی کیا تو پہلے پنجاب اور پھر سارے ہندوستان نے مخالفت کی اور لوگوں نے کوشش کی کہ اس آواز کو دبا دیا جائے ، جس کو آسمانوں نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے اس دنیا میں مہدی معہود کے منہ سے بلند کر وایا تھا۔پس پہلے پنجاب میں اس آواز کو دبانے کے لئے ، غلبہ اسلام کی اس جدو جہد کے راستہ میں روکیں ڈالنے کے لئے مخالفت شروع ہوئی۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد سارے ہندوستان میں مخالفت شروع ہو گئی۔1947 ء تک یہی حالت رہی۔۔۔پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں بڑھنے لگیں۔۔۔جب یہ صورت پیدا ہوئی تو پھر ہر اس ملک میں جہاں احمدیت کو ترقی ہو رہی تھی، مخالفت شروع ہوگئی۔گویا ہروہ ملک، جس میں جماعتیں قائم ہوئیں، وہ جماعتی کوششوں کے خلاف کھڑا ہو گیا۔۔۔۔اور جوں جوں جماعت بڑھتی گئی، اس مخالفت میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی۔لیکن مخالفانہ عنصر اسی ملک کے ساتھ تعلق رکھتا تھا، جس میں جماعتیں قائم تھیں۔یعنی ہر ملک میں