تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 82

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم چیز نظر آرہی تھی۔اسی طرح دوسرے ہمارے بھائی مسلمان اپنی نا کبھی کی وجہ سے ہمارے خلاف ہو گئے ہیں اور انہوں نے مکہ کو مرکز بنا لیا، احمدیت کے خلاف منصوبے بنانے کا۔وہ مکہ اور مدینہ، جو مرکز ہے اور بنے گا ، غلبہ اسلام کے منصوبوں کا۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی کہ اہل مکہ اور اہل حجاز فوج در فوج احمدیت میں داخل ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں یہ نظارہ دکھایا۔اصل پیشگوئی وہی ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کہ اسلام مہدی معہود کے زمانہ میں ساری دنیا میں غالب آئے گا۔اور اس کی ذیل میں اس کی تفاصیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں میں بتائی گئیں۔اور ہمارا پختہ یقین ہونا چاہیے اس پر۔ان کو صداقتیں سمجھ کر ہمارے دل کو تسلیم کرنا چاہیے کہ دنیا کے حالات جیسے بھی ہیں، رہیں اور مخالفانہ طاقتیں جس قدر بھی مضبوط ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔خدا نے کہا ہے کہ یہ ہو گا ، اس لئے یہ ضرور ہو گا۔اور جب قلب سلیم کی یہ کیفیت ہو، ایک مومن کی یہ کیفیت ہو تو مومنانہ جرات کے ساتھ وہ تبلیغ بھی کرتا ہے اور انتہائی قربانی اور ایثار اور بشاشت کے ساتھ اعمال صالحہ بجالا رہا ہوتا ہے۔اور عام طور پر جماعت احمدیہ کی اللہ کے فضل سے اسی کی رحمت سے یہ کیفیت ہے کہ دنیا مخالفت میں لگی ہوئی ہے اور احمدی دل اس یقین پر قائم ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت غلبہ اسلام کی اس تحریک کو روک نہیں سکتی۔اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے ہوگا۔اور جماعت احمدیہ کے دل میں ایک بشاشت ہے۔بشاشت اس لئے کہ کمزور جماعت ہے، دنیا کی دھتکاری ہوئی جماعت ہے، دنیا کی دولتوں سے محروم جماعت ہے، دنیا کا سیاسی اقتدار اس کے پاس بھی نہیں پھٹکا ، اس کے باوجود خدا نے اسے اٹھایا اور کہا میں تیرے ذریعہ سے اسلام کو دنیا میں غالب کروں گا۔کتنے بڑے پیار کا اظہار ہے، جو خدا نے ہم سے کیا۔اور اس کے مقابلے میں کتنا عظیم ایثار اور قربانی کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا ہوتا ہے۔دنیا حیران رہ جاتی ہے۔بعض دفعہ خود ہم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔گذشته جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے ایک منصوبہ جماعت کے سامنے پیش کیا اور بعد میں اس کا نام ”صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ رکھا گیا۔اس کی تفصیل جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ آج شوری کے سامنے پیش کر کے کوئی لائحہ عمل تیار کر لیا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔جلسہ سالانہ میں، میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ میں شوری تک یعنی مارچ کے آخر تک وقت دیتا ہوں، دوست مارچ کے آخر تک صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کے لئے اپنے وعدے پہنچا دیں۔اور اس وقت میرے دل کی جو کیفیت تھی ، وہ اپنے اندر دو پہلو رکھتی تھی اور اس کے مطابق میں نے اس وقت اعلان کیا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھتے ہوئے میرے دل 82