تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 81
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مارچ 1974ء حمد اور عزم ، ان دوستونوں کے اوپر ہم نے زندگی کی عمارت تعمیر کرنی ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مارچ1974ء حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی گئی کہ اسلام اب قیامت تک کے لئے قائم رہے گا۔یہ ایک بشارت ہے، جو اسلامی شریعت نے ، اسلامی ہدایت نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، اس وحی نے ہمیں دی۔مثلاً ہمیں یہ بشارت دی گئی کہ تمام دنیا امت واحدہ بن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے مہدی معہود کے زمانہ میں جمع ہوگی۔یہ ایک عظیم بشارت ہے۔پھر اس عظیم بشارت کا ایک پہلو یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب اسلام کو انتہائی کامیابی اور آخری غلبہ حاصل ہو جائے گا تو جو اس وقت بھی مسلمان نہیں ہوسکیں گے، ان کی مثال ایسے ہی ہوگی، جیسے کسی ملک میں چوہڑوں چماروں کی ہوتی ہے کہ شاید وہ ہزار میں سے ایک ہوتا ہے۔وہ محروم رہتا ہے، بدقسمت ہوتا ہے۔لیکن اتنی بھاری اکثریت دوسروں کی ہوتی ہے کہ اس ملک کے باشندے چوہڑوں اور چماروں کو کسی میں شمار نہیں لاتے۔یہی حالت مسلم اور غیر مسلم کی ہو جائے گی۔اتنا غلبہ حاصل ہوگا۔ہمارے ایمانوں کو تازہ کرنے کے لئے اس کی آگے شاخیں ہیں۔اور ہمارے دلوں میں ایک قوت پیدا کرنے کے لئے ہمیں ان خطہ ہائے ارض کے متعلق کہا گیا۔بڑے بڑے مخالف علاقے جو تھے، جہاں اسلام کے لئے کوئی میدان نہیں تھا، نہ داخل ہونے کا ، نہ کامیاب ہونے کا۔مثلاً رشیا (Russia) ہے۔کہ دیا گیا وہ رشیا، جو کمیونسٹ (Communist) ہے، جس نے اعلان کیا تھا کہ میں زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹا دوں گا، اس ملک کے لئے اسی بشارت کے ماتحت کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا، یہ بشارت دی کہ میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں“۔( تذکرہ 692) یہ بڑی زبر دست بشارت ہے اور اسی عظیم بشارت کے ماتحت ہے کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آئے گا۔دنیا کا ایک حصہ رشیا ہے۔اس کے متعلق پیش گوئی کر دی۔کیونکہ اس کے متعلق بظاہر ایک ناممکن 81