تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 934 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 934

خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جنوری 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم مراد ہے کہ ایسابی اے یا ایم اے، جس کو ایم اے اور بی اے کا امتحان پاس کئے ہوئے ، پانچ ، سات سال سے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو۔میں نے وقف بعد ریٹائرمنٹ کی ایک سکیم چلائی تھی۔لیکن حالات دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر وہ سارے واقفین غالبا سو سے بھی زیادہ ہیں، جنہوں نے وقف کیا ہے، لے بھی لئے جائیں تو جماعت کا کام نہیں ہوتا۔اس لئے کہ جس وقت وہ ریٹائر ہوتے ہیں تو اپنی طاقت اور استعداد اور زور اور ہمت کا بہت سارا حصہ کسی اور پر قربان کر چکے ہوتے ہیں، جہاں وہ نوکری کر رہے ہیں۔طاقت اور ہمت کے لحاظ سے (صرف ایک لفظ لے کے مثال دے رہا ہوں تا کہ آپ سمجھ جائیں ) وہ اپنے وجود کے پچاس فیصد ہوتے ہیں اس وقت یا چالیس فیصد ہوتے ہیں یا تئیں فیصد ہوتے ہیں۔وہ اپنی طاقت اور ہمت کے لحاظ سے اپنے وجود کے سوفیصد بہر حال نہیں ہوتے۔بعض بیماریاں ہیں، جو اپنی ہی غلطیوں کے نتیجہ میں بڑی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں، ان کے آثار ان کے اندر پیدا ہو چکے ہوتے ہیں۔گھٹنے کی درد ہے، اعصاب کی کمزوری ہے اور اس قسم کی بہت سی بیماریاں ہیں، جن کا تعلق غلط کھانے ، غلط بوجھ برداشت کرنے ، غلط عادتیں پڑ جانے کے نتیجہ میں بڑی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں۔بہر حال اگر ان میں اخلاص ہو تو کچھ نہ کچھ کام لیا بھی جاسکتا ہے نہیں بھی لیا جا سکتا۔لیکن میں ان کی بات اس وقت نہیں کر رہا۔میں تو اس احمدی نوجوان کی بات کر رہا ہوں، جو خدا اور اس کے رسول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں، ان کے معیار کے مطابق بچے اور حقیقی احمدی ہیں۔اور مؤمنون حقا کے گروہ میں یا شامل ہیں یا پورا جذ بہ رکھتے ہیں کہ اس میں شامل ہو جائیں۔تو جماعت کوشش کرے اور اس ضرورت کو پورا کرے۔ورنہ کوئی اور قوم کھڑی ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کا منصوبہ ہے کامیاب ضرور ہو گا۔اگر پاکستان نہیں دے گا، اگر ہندوستان نہیں دے گا ، اگر موجودہ جو جماعت ہے، وہ نہیں دے گی تو نئے آنے والے دیں گے، نئے آنے والے کئی بہت آگے نکل جاتے ہیں۔بعد میں آتے ہیں مگر پہلے آنے والوں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔مگر ہر احمدی کے دل میں یہ خواہش ہونی چاہیے کہ بعد میں آنے والا اس سے آگے نہ نکلے۔ورنہ تو زندگی کا مزہ ہی کوئی نہیں۔اگر ہم نے اسی طرح بعد میں آنے والوں سے شکستیں کھا کھا کے خدا کے حضور پہنچنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ اور فراست عطا کرے۔آپ کی نوجوان نسل کو ایمان، اخلاص اور ایثار عطا کرے۔اور عزم اور ہمت دے۔اور ان کو وہ نور عطا کرے، جس کے نتیجہ میں وہ اس حقیقت کو سمجھنے لگیں اور اپنی جانیں اس کے حضور پیش کر دیں، جس کے حضور سے (اللہ تعالیٰ ) انہوں نے ابدی زندگی ، اس کی رضا کی جنتوں میں حاصل کرنے کی خواہش رکھی ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔( مطبوعه روزنامه الفضل 27 فروری 1982 ء ) 934