تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 916
خطاب فرمودہ 03 اپریل 1981ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم reviso کیا۔یعنی جو احمدیوں نے ترجمہ کیا ہوا تھا، اس کی نظر ثانی کی۔پھر اس کے او پر اعتراض ہو گیا۔اور جب ان تمام مراحل میں سے گزر کر انگلستان کی ایک طبع کرنے والی کمپنی ، (اس کو publishing house بھی کہتے ہیں۔جس نے ہماری بعض بڑی اچھی اور معیاری کتابیں شائع کی ہیں، مثلاً Essence of Islam ہے۔یہ نمبر ایک آگئی ہے، نمبر دو آنے والی ہے۔اور ابھی تھوڑا عرصہ ہوا، انہوں نے دیباچہ قرآن عظیم، جس کا فرانسیسی میں اچھا ترجمہ ہو گیا تھا، وہ انہوں نے شائع کر دیا۔لیکن قرآن کریم کے ترجمے کے متعلق انہوں نے کہا کہ جو معیار ہماری کمپنی کا ہے، اس معیار پر یہ پورا نہیں اترتا، ہم اسے شائع نہیں کریں گے۔تو جو معیار اس کمپنی کا ہے، اس سے ہمارے قرآن کریم کا معیار اونچا ہے۔تو ہم اسے وہاں شائع نہیں کروا سکتے تھے۔پھر اب ایک اور بزرگ عمر کے لحاظ سے فرانسیسی زبان کے ماہر، جو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں بطور رجسٹرار کام کرتے رہے ہیں اور اب ریٹائر ڈ ہو گئے ہیں، پچھلے سال جب میں لندن تھا تو مجھے خیال آیا کہ چوہدری صاحب سے کہوں کہ وہ فارغ بیٹھے ہیں، وہ مفت کر دیں یا پیسے لے کے ترجمہ کر دیں۔ان سے جب بات کی گئی تو انہوں نے بڑی خوشی سے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔پیسوں کی تو ابھی تک بات نہیں کی۔وہ اب ترجمہ کر رہے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ اس سال کے اندر انشاء اللہ وہ ترجمہ ہو جائے گا۔ان کا رابطہ ٹیلیفون پر ایک ایسے فرانسیسی سے بھی ہوا، جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا۔لیکن اس فرانسیسی سکالر نے ایک کتاب لکھی ہے، بائبل ، قرآن عظیم اور سائنس آج کل سائنس کی جو تحقیقات ہورہی ہیں، ان پر بڑی اچھی کتاب لکھی ہے۔اور بیبیوں مثالیں دے کر جو خلاصہ نکالا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے لکھا ہے کہ میں نے بائبل کا موازنہ جب سائنس سے کیا مراد آج کی سائنس ہے ) تو مجھے بائبل کا ایک حکم بھی ایسا نہیں نظر آیا، جو سائنس سے مطابقت کھاتا ہو۔پھر جب میں نے قرآن کریم کا موازنہ کیا تو مجھے ایک حکم بھی ایسا نہیں ملا، جو سائنس سے مطابقت نہ کھاتا ہو۔پس جو سائنس کی تحقیق آج ہوئی اور جو سمجھا گیا کہ اس زمانہ کی سائنس نے وہ دریافت کی ہے، اس کے متعلق قرآن کریم چودہ سو سال پہلے لکھ چکا تھا۔اس لئے وہ لکھتے ہیں کہ مجھے یہ بات ماننے پر مجبور ہونا پڑا کہ قرآن کریم کو لکھنے والا کوئی انسان نہیں۔یہ خدا کا کلام ہے، جس نے چودہ سو سال بعد میں آنے والے واقعات کو چودہ سو سال پہلے بتادیا۔ان سے بھی ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے، اس بزرگ فرانسیسی سے ( عمر کے لحاظ سے بزرگ ) جو ہمارا ترجمہ کر رہے ہیں۔تو ان کو بھی بڑی دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے بعض اچھے مشورے بھی دیئے۔بہر حال اب یہ کام ایسی ڈگر پر چل پڑا ہے کہ امید رکھتا ہوں کہ اس سال کے آخر تک ختم ہو جائے گا۔916