تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 915 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 915

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 03 اپریل 1981ء خدا کے منصوبوں کو کسی کا تعصب یا کمزوری یا بے پرواہی نا کام نہیں کر سکتی ہے خطاب فرمودہ 03 اپریل 1981ء بر موقع مجلس شوری اجتماعی دعا، تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ہماری یہ مشاورت مختلف پہلوؤں سے بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ایک تو صدی ہجری کے لحاظ سے پندرہویں صدی کی یہ پہلی مجلس مشاورت ہے۔دوسرے جوصد سالہ جو بلی کا منصوبہ بنایا گیا تھا ، جماعتی زندگی کی دوسری صدی کے استقبال کے لئے اس کے عین وسط میں یہ مشاورت آرہی ہے۔دوسری صدی کے استقبال کے سلسلہ میں جو کام کرنے والے تھے، ان میں سے کچھ ہور ہے ہیں، کچھ کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔کیونکہ وہ منصوبہ بہت بڑا ہے اور وقت چاہتا ہے اور محنت چاہتا ہے اور کوشش چاہتا ہے اور ایسے وسائل چاہتا ہے کہ جس وقت منصوبہ بنا، وہ ہمارے پاس تھے ہی نہیں اور اب بھی جتنے ہونے چاہئیں، وہ نہیں ہیں۔اس منصوبہ کی ایک شق یہ تھی کہ قرآن کریم کے تراجم شائع کئے جائیں۔اب قرآن کریم کے تراجم کسی دہریہ سے کروا کے تو ہم نے نہیں چھپوانے یا کسی عیسائی متعصب سے ترجمہ کروا کر تو شائع نہیں کرنے۔اس کے لئے ان زبانوں کے احمدی ماہرین چاہئیں، جن زبانوں میں ہم نے تراجم کروانے ہیں۔یا اگر وہ میسر نہ ہوں تو ایسے سکالرز اور ماہرین السنہ، جو ہم سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم ان پر اعتماد کر سکتے ہیں، وہ میسر آنے چاہئیں۔پس یہ کوشش، یہ سعی، یہ جدو جہد، یہ struggle پچھلے سات سال سے جاری ہے۔مثلاً فرانسیسی ترجمہ قرآن عظیم کا جہاں تک تعلق ہے، ہمارے بعض دوست فرانسیسی جانتے ہیں۔ماریشس میں فرانسیسی بولی جاتی ہے۔وہاں سکول کے بہت سے احمدی ٹیچر ز ہیں، بعض شاید ہیڈ ماسٹر بھی ہیں۔اچھی زبان ان کی سمجھی جاتی تھی لیکن جب ترجمہ قرآن کریم ان میں سے ایک حصے نے کیا تو احمدیوں میں سے ہی دوسرے حصے نے اس پر اعتراض کر دیا کہ یہ ترجمہ ٹھیک نہیں ہے۔اور جب اس دوسرے حصے سے ترجمہ کروایا تو پہلے نے اعتراض کر دیا کہ یہ ترجمہ ٹھیک نہیں۔پھر ماریشس کے ہی ایک اور دوست تھے، احمدی نہیں تھے، ان کے متعلق خیال تھا کہ وہ شاید زبان اچھی جانتے ہوں گے۔انہوں نے اجرت پر اس ترجمہ کو 915