تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 878 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 878

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اکتوبر 1981ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم آج میں تحریک جدید کے اڑتالیسویں ، اڑتیسویں اور ستر ہوئیں ، تین دفتر ہیں، ان کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔تحریک جدید نے جو قربانیاں یا تحریک جدید میں جماعت نے جو قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی ، اس کی شکل یہ بنتی ہے، میں نے اپنی خلافت کے سال سے یہ گراف ان سے بنوایا ہے۔ان اٹھارہ سال میں چار لاکھ ، پینتیس ہزار روپیہ تحریک جدید کی مد میں وصول ہوا تھا ، 65-1964ء میں چندہ جات تحریک جدید اندرون پاکستان۔اور 82-1981ء کا بجٹ اٹھارہ لاکھ ، چالیس ہزار ہے۔جس کا مطلب ہے کہ ساڑھے چار سو فیصد یعنی اتنے گنا زیادہ یہ ہو گیا، اس عرصے میں۔لیکن تحریک جدید کی جو آمد ہے، وہ اس ملک میں ہمارے پاکستان میں اتنی خرچ نہیں ہوتی ، جتنا اس کا تعلق باہر کی جماعتوں سے ہے۔یہاں ہمارے خرچ جو ہیں، یہاں کی آمد اس کا جو خرچ ہے، وہ مبلغین کا تیار کرنا، ان کے الاؤنسز دینا، کتابیں شائع کرنا، دفتر چلانا وغیرہ وغیرہ۔کسی وقت تحریک جدید کو جب سہولت تھی فارن ایکیچینچ کی اور حکومت کچھ رقم ( زیادہ نہیں لیکن باہر بھیجنے کی اجازت دیتی تھی ، اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں کچھ حصہ ہماری جدو جہد اور سعی اور کوشش کا بھی شامل ہو جاتا تھا لیکن اب نہیں ہوتا۔اب سارے کا سارا جو تحریک جدید کی ذمہ داریاں پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں، ان پر خرچ ہوتا ہے۔اور اس ضرورت کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ نے اس میں زیادتی کی ہے۔جیسا کہ میں بتاؤں گا۔اس زیادتی کے مقابلے میں بیرونی ممالک کی زیادتی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔بیرونی ممالک میں ساری دنیا میں جماعت جو پھیلی، 1964-65ء میں اکتیس لاکھ روپیہ آمد تھی۔امریکہ، یورپ کی جماعتیں ، افریقہ کی جماعتیں، کچھ نئی پیدا ہوئیں تھیں ، کچھ پرانی تھیں۔کچھ کم تربیت یافتہ تھیں، کچھ زیادہ تربیت یافتہ تھیں۔بہر حال ساری دنیا کی احمدی جماعتیں تحریک جدید میں اکتیس لاکھ روپیہ دیتی تھیں۔اکتیس لاکھ کا بجٹ تھا۔کچھ چندوں کے علاوہ بھی مثلاً جو سکول ہیں، ان کی فیسوں کی آمد اس طرح شامل ہو جاتی ہے تھوڑی سی۔اور اٹھارہ سال میں قربانی کی یہ رقم اکتیس لاکھ سے بڑھ کر چار کروڑ ، اٹھارہ لاکھ بن گئی۔میرا خدام الاحمدیہ کے زمانہ میں بھی یہ تجربہ تھا کہ جتنی ضرورت ، جس مہینے میں ہمیں پڑی، اتنی ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں آمد دے دی، رقم کا انتظام کر دیا۔یہ جو چار کروڑ ، اٹھارہ لاکھ، اکتیس لاکھ کا بن جانا ہمیں دو چیز میں بتاتا ہے۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمایا اور وہ نتائج ، جو خدا تعالیٰ چاہتا تھا، ہماری کوششوں سے نکلیں ، وہ نکالے۔میرا اور آپ کا یہ کام نہیں کہ لوگوں کے دل خدا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتیں۔دلوں کے جیتنے کے سامان صرف اللہ تعالی پیدا کرتا ہے۔کوئی اور ہستی یہ سامان 878