تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 879 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 879

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اکتوبر 1981ء پیدا نہیں کر سکتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیلی زبان میں ہمیں یہ سمجھایا کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی انگلیوں میں سمجھو، اس طرح پکڑا ہوا ہے۔وہ یوں کر دے تو اس کا زاویہ اور بن جائے گا اور یوں کر دے تو اس کا زاویہ اور بن جائے گا۔اس کے لئے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔تو ایک تو جو یہاں کا چار، ساڑھے چار لاکھ روپیہ، باہر کی جماعتوں کا اکتیس لاکھ روپیہ تھا، اتنی برکت ڈالی، اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اتنا اثر پیدا کیا، ان کی کوشش میں کہ ان کی تعداد کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔یہ جوگراف بنتا ہے، تعداد کے لحاظ سے، یہ خطے خطے میں مختلف ہے۔مثلاً غانا کا اندازہ یہ ہے کہ کم و پیش پانچ لاکھ عیسائی اور بت پرست اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس حقیر اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار نے والی لیکن خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والی جماعت کے ذریعے کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوئے اور دوسرے یہ بتاتی ہیں، یہ جور قوم ہیں، غیر ممالک کی چار کروڑ ، اٹھارہ لاکھ کہ وہ لوگ ، جو حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے مقام کو پہچانتے نہیں اور جس مقصد کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے، اس کا اندازہ نہیں کر پاتے۔مقصد آپ کا یہ نہیں تھا کہ اپنی عزت دنیا میں قائم کریں۔مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید ہر دل میں بٹھائی جائے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہر گھر پر گاڑا جائے۔لیکن پوری طرح ان کو ابھی سمجھ نہیں آئی تھی۔احمدی ہو گئے تھے لیکن پوری طرح سمجھ نہیں آتی تھی۔لیکن اب آہستہ آہستہ تربیت کے نتیجہ میں وہ اس عظیم جدو جہد اور مجاہدہ کو سمجھنے لگے ہیں اور اس کے لئے قربانیاں دینی شروع کر دی ہیں۔وقت کی بھی قربانی اور ہر قسم کی قربانی، جو انسان دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مال کی بھی قربانی۔یہ کیوں ہوا؟ خدا نے تو کہا تھا:۔لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ اگر تم ناشکرے ہو گے تو میں زیادتی نہیں کروں گا۔یہاں ہمیں زیادتی نظر آتی ہے۔معلوم ہوا کہ جماعت احمدیہ ( یہ واضح نتیجہ نکلتا ہے کہ جماعت احمدیہ ) اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں کی جماعت ہے۔دوسرے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ وہ نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور پیش کرتے اور خدا تعالیٰ کی نعمتیں جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہیں، ان پر اتنا ہی ان کا سر جو ہے، وہ زیادہ جھکتا جاتا ہے، زمین کی طرف۔اس واسطے لا زید نکم کے مطابق ان کے اموال میں بھی برکت اور ان کے اخلاص میں بھی برکت ڈالی گئی۔اور ان کی قربانی کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کوشش کے ثمرات جو پیدا ہونے چاہئیں تھے، وہ پیدا کرنے شروع کر دیئے۔ایک انقلاب عظیم بپا ہونا شروع ہو گیا۔879