تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 871
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1981ء ہے، ( میں اخلاق کی اور پاکیزگی کی بات کر رہا ہوں۔) اس کے متعلق میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں۔قرآن ہماری جان ہے۔قرآنی تعلیم کو ہماری روح میں اسی طرح گردش کرنا چاہیے، جس طرح ہمارے جسم میں ہمارا خون گردش کر رہا ہے۔اس کے بغیر ہم اچھے اخلاق ،تخلقوا باخلاق اللہ اور خلقہ القرآن کے مطابق اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتے۔چوتھا مطالبہ ہم سے یہ کیا گیا کہ روحانی صلاحیتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانا۔روحانی صلاحیتوں کی نشو ونما اپنے کمال کو تب پہنچتی ہے، جب بندہ کا اپنے رب سے زندہ تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔بندہ ایک عاجز بندہ ہے اور ہمارا رب شہنشاہوں کا بھی شہنشاہ۔اس رفعت ، اس بلندی تک کوئی انسان پہنچ نہیں سکتا۔یہ اپنی جگہ درست لیکن اپنی مہربانی سے اس نے یہ انتظام کیا کہ اس کا یہ عاجز بندہ اس کے ساتھ ایک زندہ تعلق قائم کر سکتا ہے۔جس کے نتیجے میں وہ ہر آن اس کے فضلوں کو حاصل کر سکتا اور ہر لحظہ رحمتیں اس پر نازل ہو سکتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی۔جب یہ زندہ تعلق پیدا ہو جائے تو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اعلان کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہ محمد کی آواز پر لبیک کہو کہ وہ اس لئے تمہیں بلا رہا ہے کہ وہ تمہیں زندہ کرے۔جو خدا میں فانی ہو جاتا ہے، وہ نئی زندگی پاتا ہے۔اور اس نئی زندگی کی جو علامتیں قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہیں، ان میں سے چند ایک میں بتا دیتا ہوں:۔قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ہمحبت میں مست ہو کر فانی ہو جانے والے انسان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، فرشتے ان پر نازل ہوتے ہیں۔دوسرے یہ کہ فرشتے اس سے یا ان سے ہم کلام ہوتے ہیں۔تیسرے یہ کہ فرشتے ان کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔چوتھے یہ کہ فرشتوں کا ان کے پاس آنا بطور دوست کے ہوتا ہے۔بڑی مہربانی۔فرشتوں کو کہے کہ میں نے تمہیں ان کا دوست بنا دیا۔جس طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا تھا۔خدا تعالیٰ کہتا ہے:۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ إِلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ( حم السجدة : 32-31) 871