تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 870
خطاب فرمودہ 23 اکتوبر 1981ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ (المائدة : 19) جس کو چاہے گا، معافی دے دے گا۔خالق ہے، مالک ہے، کسی کی گرفت اس پر نہیں۔جس کو چاہیے گا، معاف کر دے گا۔جس کو چاہے گا، سزا دے دے گا۔لیکن اس کے نتیجے میں ہمیں بے فکرے نہیں بن جانا چاہیے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک سیکنڈ کا جو قبر اور غضب ہے ، وہ بھی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ایک تو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی زندگی میں پیدا کرو۔اپنے اعمال میں، اپنی صفات میں۔اور دوسرے اس کے لئے یہ ضروری ہے، اخلاقی استعدادوں کی کامل نشو ونما کے لئے کہ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:۔كان خلقه القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن کریم کی کامل اتباع تھی۔آپ بھی قرآن کریم کی وحی کی کامل اتباع کر کے نبی کریم کے اس اسوہ پر عمل کرتے ہوئے کہ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى (یونس: 16) جو مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے، میں اس کی اتباع کرتا ہوں۔قرآن کریم نے جو اخلاق پیدا کئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں، ہم میں وہ نہیں پیدا ہو سکتے۔کیونکہ ہماری استعداداتی نہیں ہے۔لیکن ہماری استعداد اس اسوہ پر، ان کے نقش قدم پر چل کے اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کو پہنچے۔ہم میں سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق اپنے کمال کو پہنچ سکتا ہے۔اس کے لئے مظہر بنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ فرمایا۔لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 80) محض ظاہری اتباع وحی قرآنی کی کافی نہیں۔پاکیزہ راہوں کو اختیار کرنا اور عاجزانہ بندھنوں میں خود کو باندھ کر فنا کا جبہ اوڑھ لینا، یہ ضروری ہے۔قرآنی تعلیم کے متعلق آپ نے بہت کچھ سنا۔یہ جو تخلقوا باخلاق الله 870