تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 759 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 759

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرموده 14 نومبر 1980ء پر پیار کرنے والا بھی ہے او محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی دعائیں لینے والا ہے کہ امت محمدیہ کے کسی اور فرد نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ دعائیں نہیں لیں۔اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا جرنیل بھی ہے۔جرنیل ہے، خود شہنشاہ نہیں۔ایک جرنیل ہے، اپنے آقا کا اس زمانہ کے لئے اور یہ خبر دی گئی تھی کہ اس زمانہ میں ساری قو میں ایک ہو جائیں گی۔اس واسطے میں نے اعلان کیا کہ میرے نزدیک ( جو میں دیکھ رہا ہوں ) پندرہویں صدی تمام اقوام کے ایک ہو جانے کی صدی ہے۔اور تمام اقوام کے ایک ہو جانے کے یہ معنی ہیں کہ وہ تمام اقوام ، جو اسلام سے باہر ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی، جو مہدی کے ہاتھ میں ہے۔اور تمام وہ قومیں، جو اسلام کے اندر ہیں، تمام تفرقے مٹاکر اور عداوتوں کو چھوڑ کر پیار اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے ، اس جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی۔نوع انسانی ایک قوم بن جائے گی۔یہ ہوگا ، یہ ہوکر رہے گا۔بہت سے لوگ اسے آج ناممکن سمجھیں گے۔مگر دیکھنے والے دیکھیں گے اور مشاہدہ کرنے والے مشاہدہ کریں گے کہ خدا نے جو بشارتیں دی ہیں، وہ اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔اقوام عالم کو جو ایک قوم بننا ہے، اس کے لیے پہلا اصول یہ قائم کیا گیا کہ خدا ایک ہے۔اس نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری جو بھی قابلیتیں ، استعدادیں ہیں، اسی کی عطا ہیں۔کس مقصد کے لیے پیدا کیا ؟ اور مقصد یہ ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) مقصد اس کے بندے بن جاؤ۔اور خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں انسان اپنے مقصد حیات کو سمجھنے لگے گا۔اور اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی زندگی کے دن گزارے گا۔دوسرا اصول جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ یہ تھا کہ کامل مساوات انسانوں کے درمیان قائم کی جائے۔کوئی قوم سپر (Super) اعلیٰ نہیں ہے۔ساری قو میں ایک جیسی حیثیت رکھتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک کی عزت اور دین اسلام کی رو سے ایک ایسا احترام پانے والی ہیں۔قوم ، قوم میں کوئی فرق نہیں ، سارے بشر برابر ہیں۔(بشر کے معنی عربی میں مرد اور عورت کے ہیں۔عظیم اعلان یہ کہ بشر، بشر میں فرق۔لیکن ارشاد باری ہوا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جن کی عظمت خدا تعالیٰ نے یہ قائم کی کہ (الكهف : 111) 759