تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 760
خطبہ جمعہ فرمودہ 14 نومبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم لولاک لما خلقت الافلاك یہ کائنات تیری خاطر پیدا کی گئی ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، جس کو اللہ تعالیٰ نے۔انسانوں سے بڑھ کر استعدادیں دیں۔کامل استعدادیں، جو کسی اور کو نہیں دی گئیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، جن کے لیے خدا تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ساری کی ساری استعدادیں آپ کی کامل نشو و نما پاگئیں۔آپ کامل انسان بھی بنے ، آپ کامل بادشاہ بھی بنے ، آپ کامل آقا بھی بنے ، آپ کامل بادی بھی بنے ، آپ کامل شریعت لانے والے بھی بنے ، آپ کامل طور پر لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ بھی ٹھہرے۔سب اپنی جگہ درست لیکن آپ کے منہ سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروایا۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ( الكهف : 111) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں اے مردو! اور اے عورتو! کوئی فرق نہیں۔عظیم مساوات ہے۔اور اس کا ایک پہلو یہ ہے، جو دوسری جگہ زیادہ واضح کیا گیا ہے۔وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (ال عمران : 65) یہ جو عدم مساوات انسانوں کے درمیان ہے، اس کی سب سے زیادہ بھیانک شکل انسانی تاریخ میں یہ ہے کہ مذہبی لحاظ سے بعض کو أَرْبَابًا مِّنْ دُونِ اللَّهِ کا درجہ دے دیا گیا اور بعض کو انسان نے اپنے فیصلے کے مطابق کم درجہ دے دیا۔یعنی خدا تعالیٰ کا فیصلہ نہیں، انسان کا اپنا ہی فیصلہ ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتنا خون خرابہ ہوا مذ ہب کے نام پر کہ الامان۔حالانکہ اسلام نے کہا یہ تھا، وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ کوئی انسان کسی دوسرے کو ( خدا کے علاوہ ) رب نہیں بنائے گا۔رب ایک ہی ہے۔جس کے معنی یہ تھے کہ کسی چیز کے حصول کے لیے، اپنی کسی ربوبیت کے حصول کے لیے کسی انسان کے پاس نہیں جائے گا۔نہ اس کے سامنے جھکے گا، نہ اپنی تکالیف دور کرنے کے لیے اس کے اوپر بھروسہ کرے گا، وغیرہ وغیرہ لیکن بنا لیے انسانوں نے ارباب۔760