تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 758
خطبہ جمعہ فرمودہ 14 نومبر 1980ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم نے اسلام کی نشاۃ اولی میں اس حقیقت کو سمجھا، ان کی زندگی اور ان کی روح اور جسم میں سے ایک ہی آواز نکلتی تھی ،احد اَحَدٌ اور مولا بس۔خدا ہی خدا ہے، سب طاقتوں والا ،سب کچھ کرنے والا۔جو ہوا، وہ بھی اسی نے کیا۔جو ہوتا ہے ، وہ بھی وہی کرتا ہے۔جو ہو سکتا ہے، وہ بھی اسی کے حکم سے ہو سکتا ہے۔اس پر تو کل کرنے والوں نے ، سینہ ودل میں اللہ کے لئے حقیقی پیار رکھنے والوں نے دنیا کو یہ نظارہ بھی دکھایا کہ لاکھوں انسان ان پر قربان کر دیئے گئے۔کیونکہ اس کا جب امر ہو تو قربان کر دی جاتی ہیں کا فرقو میں صداقت پر۔یرموک کے میدان میں چار لاکھ سپاہی چالیس ہزار پر قربان ہو گئے۔اس معنی میں، میں یہ قربانی کہ رہا ہوں۔اس لیے کہ خدا تعالیٰ کا منشا یہی تھا کہ وہ ان لوگوں کی عزت کو قائم کرے اور ان لوگوں کے نصیب میں فتح ہو ، جو اس واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے اور اسی کے لئے زندگی گزارنے والے ہیں۔جس وقت انسان کے بڑے حصہ نے طاقت کے ساتھ خدائی طاقتوں کا مقابلہ کرنا چاہا، طاقت کے ساتھ ان کی طاقتوں کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔لیکن وہ جو اصل مقصد تھا کہ انسان خدا کا بندہ ہوکر زندگی گزارے، وہ آہستہ آہستہ پورا ہوتا رہا۔اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام مسلسل ترقی کرتا چلا آرہا ہے۔میں یہ فقرہ اس کے باوجود کہتا ہوں کہ چین میں ایک موقع پر شکست بھی ہوئی۔لیکن میں سپین کی بات نہیں کر رہا۔میں تو دنیا کی بات کر رہا ہوں۔ساری دنیا میں ایک تسلسل کے ساتھ مجموعی حیثیت میں اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، جنہیں اور جن کے چند رفقاء کی جماعت کو رؤسائے مکہ، کسری اور قیصر کی طاقت مٹادینا چاہتی تھی ، مٹائی نہیں گئی۔بلکہ أَفَلَا يَرَوْنَ أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الانبیاء:45) آہستہ آہستہ نہیں ترقی ملتی چلی گئی اوراللہ تعالیٰ نے جو نتیجہ نکلا، اس کے بعد وہ انسان کے سامنے آگیا۔آفَهُمُ الْغُلِبُونَ (الانبياء: 45) مسلسل ترقی دیکھنے کے باوجود تم سجھتے ہو کہ مسلسل ترقی کرنے والے ناکام ہو جائیں گے۔اور مسلسل تنزل کی راہوں کو اختیار کرنے والے کامیاب ہو جائیں گے۔عقل سلیم تو ایسا نتیجہ نہیں نکالتی۔پھر جیسا کہ بتایا گیا تھا، آخری زمانہ میں جو سیح و مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے، وہ مسیح اور مہدی ، جس کی اپنی کوئی ذاتی حیثیت نہیں۔بلکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا و غلام بھی ہے، کامل مطیع بھی ہے، آپ سے کامل طور 758