تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 707 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 707

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اکتوبر 1980ء بازو سے یا اپنی تدبیر سے یا اپنے مال و دولت سے یا اپنے اثر و رسوخ سے ان نعمتوں کو حاصل کیا۔قرآن کریم یہ اعلان کر چکا ہے۔اور خدا اور قرآن اس کا کلام جو ہے، وہ سچا ہے کہ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہے، اپنے پاس سے تم کچھ نہیں لے کے آئے۔اس واسطے جماعت احمدیہ پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک خدا تعالیٰ کی حمد کرنا ، جو میں نے آپ کو ماٹو دیا تھا جلسے پر ، دو، ایک سال ہوئے۔جتنی حمد آپ خدا کی کر سکیں ، وہ تھوڑی ہے۔خدا اتنا مہربان ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ منصوبہ بنایا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی کہ آخری زمانہ میں پھر اسلام ایک تنزل کے بعد ساری دنیا پر اپنے حسن اور نور کے ذریعہ غالب آئے گا۔اور ایک جماعت پیدا کی جائے گی، اس کام کے لئے۔مہدی آئیں گے۔مہدی ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاجز عبد کیونکہ قُلْ يُعِبَادِيَ (الزمر: 54) بھی کہا گیا ہے نا۔بعض لوگ اس فقرے پہ اعتراض کر سکتے ہیں، باہر والے۔اس واسطے میں وضاحت کردوں۔محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ایک عاجز عبد، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت کرنے والے۔ایک ہے، فلسفہ۔وہ تو علیحدہ رہا۔میں نے دوسروں کو بھی پڑھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کو بھی پڑھا۔اور کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا کہ جس قدر پیار اور محبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھی ، وہ کسی اور جگہ ہمیں نظر نہیں آتی۔اور جو اعلان کیا گیا تھا۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: 32) اس واسطے اس اعلان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں فانی ہونے کی وجہ سے اس قدر پایا کہ کسی اور نے نہیں پایا۔اور پھر جو پایا، وہ مخلوق کے لئے وقف کر دیا۔ایک جماعت پیدا کر دی، جو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے مخلوق خدا کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ کی حمد کریں، حمد کریں، اور حمد کرتے ہوئے آپ کی زبانیں نہ تھیں۔اور دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ۔تو حمد کریں اور دعا کو انتہا تک پہنچا ئیں۔اور تدبیر کریں اور تدبیر کو انتہا تک پہنچائیں۔تا زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔707