تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 706
خطبہ جمعہ فرمودہ 31 اکتوبر 1980ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم طرف بھاگے چلے آئیں۔ورنہ تو آمد ہوہی نہیں سکتی۔یہ ہمارے ہسپتال، کلینکس (Clinics) سے ہاسپیٹل (Hospital) بن گئے۔یعنی عمارتیں بنالیں، انہوں نے بڑی بڑی۔اور ہمارے ہسپتالوں نے جتنی تعداد میں وہ تھے ، اتنی تعداد میں ہی سکولوں کے اخراجات برداشت کئے۔شروع میں بہت زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔پھر حکومت کی امداد ملنی شروع ہو جاتی ہے۔وہاں میں نے جو ڈاکٹر بھیجے ، ( چار ہسپتال ہیں، غانا میں ) چار کا مجموعی سرمایہ، جو میں نے منظور کیا ، بیرون پاکستان کی جماعتوں سے، وہ دو ہزار پونڈ تھا۔دو ہزار کو یاد رکھیں، دو ہزار پونڈ۔دو ہزار پونڈ ، آج کل ان کی کرنسی گری ہوئی ہے، اس کے لحاظ سے بھی قریباً زیادہ سے زیادہ دس ہزار سیڈیز بنیں گے۔اس سے کام شروع کیا ، دعا کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ۔جو ڈاکٹر جاتے تھے، ان کو کہتا تھا کہ خدا تعالیٰ سے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ور نہ نا کام ہو جاؤ گے۔اور اب جب میں چلا ہوں تو میں نے عبدالوہاب بن آدم سے پوچھا کہ سارے اخراجات نکال کے تمہارے پاس ریزرو میں کتنی رقم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ کام دس ہزار سیڈیز سے شروع ہوا تھا، اب پچیس لاکھ روپے بینک میں ریزور پڑا ہوا ہے۔اس واسطے وہاں ہمیں کوئی دقت نہیں۔وہ کہتے ہیں، حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ مریضوں کے لئے اور وارڈ ز بنا ئیں۔تو ہمارے پاس پیسہ ہے، ہم کہتے ہیں، تم ہمیں سیمنٹ دے دو، وہاں کنٹرول پر ہے، سیمنٹ تنگی ہے۔میرے جانے کا ان کو یہ بھی فائدہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ برکت دی کہ سو بوری سیمنٹ کی مشکل سے ملتی تھی ، بعض ہماری عمارتیں ، سکولوں، ہسپتالوں کے بعض حصے سال، ڈیڑھ سال سے شروع ہوئے ہوئے ہیں اور وہ ختم ہی نہیں ہو سکے۔کیونکہ سیمنٹ نہیں مل رہا۔اب انہوں نے کہا ہے، شاید دو ہزار یا اڑھائی ہزار بوری ایک پرمٹ میں سینکشن (Sanction) کر دی ہے، انہوں نے۔مجھے موقع ملا، میں نے ان کے وزرا کو سمجھایا۔میں نے کہا، کام کر رہے ہیں، تمہاری خدمت کر رہے ہیں، دولت کمانے تو نہیں آئے۔اس ملک میں خادم کی حیثیت سے آئے ہیں اور تم جانتے ہو۔(وہ سب جانتے ہیں۔) تو ہمیں یہ روکیں کیوں ستا رہی ہیں؟ تو اللہ نے فضل کیا ، انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔اس وقت جو میرے دورے کا پس منظر ہے، وہ آپ کو بتا رہا ہوں۔وہ ہے، تحریک جدید۔یعنی جو کام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شروع کیا ، بڑی دعاؤں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اسی کو ہم نے پھر آگے چلایا نا۔اور اللہ تعالیٰ ہر سال پہلے سے زیادہ برکتیں ڈالتا ہے اور اپنی نعمتوں سے ہمارے گھروں کو بھر دیا۔اور بیوقوف ہے وہ احمدی ، جو ان نعمتوں کو دیکھ کے سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے زور 706