تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 672
خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اگست 1980ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ دنیوی علوم کی تحصیل کفر ہے۔تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں کے علم کی تحصیل کو کفر قرار دیتا ہے۔سو یہ بالبداہت غلط ہے۔جس قدر انسان اس کی صفات کے جلووں سے آگاہ ہوتا ہے، اسی قدر اس کی معرفت الہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کو بھی جانتا ہے اور اس کے جمال اور اس کی رحمت کو بھی پہچانتا ہے۔بہر حال جن علوم کو د نیاد نیوی علوم کہتی ہے، قرآن کریم نے انہیں بھی روحانی علوم قرار دیا ہے۔اور اس لئے قرار دیا ہے کہ وہ بھی معرفت الہی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ہم احمدیوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی فراموش نہیں کرنا اور اس کی معرفت کے حصول سے کبھی غافل نہیں ہونا۔اسی لئے میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے ایک تعلیمی منصوبہ جماعت کے سامنے رکھا ہے۔اگر جماعت اس بارہ میں تعاون کرے اور میرے کہنے پر چلے تو علمی ترقی کی راہیں کھلنے کے ساتھ ساتھ معرفت الہی میں ترقی کی بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔اور قوم و ملک اور بنی نوع انسان کی خدمت بجالانے کی بعض نئی راہوں پر گامزن ہونے کی توفیق بھی مل سکتی ہے۔میں نے کہا یہ ہے کہ ہمارا ہر بچہ میٹرک تک ضرور تعلیم حاصل کرے۔جس ملک میں خواندگی کی شرح سترہ فی صد ہو، اگر اس میں جماعت کا ہر بچہ میٹرک پاس کرتا چلا جائے تو خواندگی کی شرح میں اضافہ کا موجب ہوگا اور یہ ملک کی کتنی بڑی خدمت ہوگی۔پھر اس منصوبہ کی افادیت کا ایک پہلو اور بھی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جو شخص ان پڑھ ہے، وہ قرآن کریم کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔برخلاف اس کے ایک میٹرک پاس میں قرآن کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح جو ذہین ہیں اور بی اے، بی ایس سی تک تعلیم حاصل کریں گے، ان میں قرآن کو سمجھنے کی زیادہ صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔علی ہذا، جو ایم اے، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کریں گے، ان میں قرآن کو سمجھنے کی اور بھی زیادہ اہلیت پیدا ہوگی۔اس طرح ہمارے نوجوانوں میں قرآنی علوم و معارف سے فیضیاب ہونے کی راہیں بھی استوار ہوتی چلی جائیں گی۔مزید برآں قرآنی علوم سے بہرہ ور ہونے کے نتیجہ میں ہمارے نوجوان دنیوی علوم میں ایسی دسترس حاصل کر سکیں گے، جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوگی۔کیونکہ قرآن کریم ہر علم کے بارہ میں راہنمائی کرتا ہے۔کوئی شعبہ علم ایسا نہیں ، جس کے متعلق قرآن میں ہدایت موجود نہ ہو۔قرآن نے شہد کے متعلق دو، تین آیات میں عظیم الشان ریسرچ کا منصوبہ پیش کیا ہے۔اسے پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔آپ لوگ جب تک قرآن کی ہدایت کی روشنی میں علمی تحقیق نہیں کریں گے، آپ دنیا کے راہنما نہیں بن سکتے۔672