تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 671
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم رب ارنى حقائق الاشياء خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اگست 1980ء یعنی اے میرے رب ! مجھے اشیاء کے حقائق دیکھا۔اس میں دراصل یہ بتانا مقصود تھا کہ علمی ترقی کے لئے دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی مدد کرنا ضروری ہے۔مغربی اقوام نے دیگر علوم کی طرح نیو کلیئر فزکس میں ترقی تو کی لیکن عارفانہ دعا کے فیض سے انہوں نے اپنے آپ کو محروم کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی علمی ترقی کی لگن ، تڑپ اور جدوجہد کو ایک جاہل کی دعا کے طور پر ( جسے حضرت اقدس نے ایک مہجوبانہ دعا قرار دیا ہے۔) قبول کر کے ان پر علمی ترقی کی راہیں کھول دیں۔ترقی تو انہوں نے کر لی لیکن حقائق الاشیاء تک ان کی رسائی نہ ہوسکی۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ کی رو سے انہیں اپنی تحقیقات کو انسانوں کے فائدہ کے لئے استعمال کرنا چاہئے تھا۔لیکن انہوں نے کیا یہ کہ جاپان کے دو شہروں کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا۔ہمیں رب ارنى حقائق الاشياء کی دعا اسی لئے سکھائی گئی ہے کہ ہم پرعلمی میدان میں آگے بڑھنے کی راہ بھی کھلے اور ساتھ ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کا نور بھی ملے۔تاکہ ہم اپنی علمی ترقی سے بنی نوع انسان کو دکھ میں مبتلا نہ کریں بلکہ انہیں سکھ پہنچائیں۔اور اسی طرح ان کے خادم ہیں، جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔اسی لئے دنیوی علوم کے بارہ میں ہمارے نقطہ نظر اور مغربی قوموں کے نقطۂ نظر میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔جنہیں دنیا محض دنیوی علوم کہتی ہے، ہم انہیں معرفت الہی کے حصول کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر دینی صداقت کے لئے آیت کا لفظ استعمال کیا ہے، اسی طرح مظا ہر قدرت کو بھی، جن کا تعلق دنیوی علوم سے ہے، اس نے آیات قرار دیا ہے۔اور بادلوں کو بھی، پھر بارش کے برسنے کو بھی آیت قرار دیا ہے اور نہ برسنے کو بھی۔اس لئے کہ بادل و ہیں برستے ہیں، جہاں انہیں برسنے کا حکم ہو اور جہاں حکم نہ ہو، وہاں نہیں برستے۔کبھی وہ بادلوں کو کم دیتا ہے کہ اس لئے برسو کہ بندوں کو اس کی ضرورت ہے اور کبھی حکم دیتا ہے کہ برسو تاز مین پر میرا قہر نازل ہو۔برسنے کی ان دونوں حالتوں کو یا نہ برسنے کو اس نے اپنی اپنی جگہ آیت قرار دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا ہر جلوہ آیت ہے۔اور اس لئے آیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کا ذریعہ ہے۔671