تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 40 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 40

خطبہ جمعہ فرموده 08 فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد پنجم ساتھ اور تمام طاقتوں کے ساتھ جو اس میں پیدا کی گئی ہیں، اکٹھا کر کے امت واحدہ بنا کر خدائے واحد و یگانہ کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے، جس میں یہ کوشش شروع ہو چکی ہے ، مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آسمانی نزول کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان روحانی برکتوں کے ساتھ ، جن کا وعدہ اس مسیح اور اس مہدی کو دیا گیا تھا، اس پیار کے ساتھ ، جس پیار سے اس پاک فرزند محمد کا وجود بھرا ہوا ہے، یہ مہم شروع ہو چکی ہے۔ایک صدی گزرنے والی ہے۔صدی کی انتہا پندرہ سال اور ایک ڈیڑھ ماہ تک ہونے والی ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے ، اس سے دعائیں کرنے کے بعد، اسی کی دی ہوئی توفیق سے ایک منصوبہ جماعت احمدیہ کے سامنے رکھا گیا ہے۔یہ منصوبہ ہے، انسان کے دل کو جیت کر خدا کے ساتھ ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کرنے کا۔یہ منصوبہ ہے، ہر انسانی دل میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کو پیدا کرنے کا۔اس کے بہت سے پہلو ہیں، جن کا اجمالاً میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ذکر کیا تھا۔اور اس منصوبہ کو چلانے کے لئے اپنی سمجھ کے مطابق مالی قربانیوں کی میں نے تحریک کی تھی۔جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا، اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور جو کم سے کم میری تحریک کی رقم تھی یعنی اڑھائی کروڑ روپیہ، اس سے بڑھ چکا۔پچھلے جمعہ تک تین کروڑ اور میں لاکھ سے زائد کے وعدے وصول ہو چکے تھے اور جو میرے، اس عاجز بندے کے نزدیک بڑی سے بڑی رقم کی امید کی جا سکتی تھی یعنی پانچ کروڑ روپیہ، اس کے اور کم سے کم یعنی اڑھائی کروڑ کے درمیان اس رقم کے وعدے پہنچ گئے۔اب تو میرا خیال ہے، چار کروڑ کے قریب پہنچے ہوئے ہوں گے۔بہر حال جو حالات اس وقت نظر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس پیاری جماعت کے دل میں خدا اور محد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کی جو محبت پیدا کی گئی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کوئی بعید نہیں کہ یہ رقم پانچ اور دس کروڑ کے درمیان کہیں پہنچ جائے۔شاید پانچ کی نسبت دس کروڑ سے زیادہ قریب۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی دی جاتی ہے اور دی جاسکتی ہے۔جہاں تک دینے والوں کی نیتوں کا سوال ہے، بعض دفعہ سوچتے سمجھتے ہوئے بھی نیت میں خلوص نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جہالت کی وجہ سے انسان بعض ایسے کام کر جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوتے ہیں۔اور قربانیاں قبول نہیں کی جاتیں بلکہ واپس دینے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہیں۔ایسا بھی ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے نصرت جہاں کے منصوبہ کے وقت جماعت کو یہ کہا تھا کہ مجھے فکر نہیں کہ روپیہ 40