تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 41
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 08 فروری 1974 ء کہاں سے آئے گا اور کیسے آئے گا؟ مجھے یہ فکر نہیں کہ ڈاکٹرز، جن کی ضرورت ہے یا پروفیسر ز ور لیکچررز جن کی ضرورت ہے، وہ کہاں سے آئیں گے اور کیسے آئیں گے؟ جب خدا تعالیٰ نے اپنی منشاء کوظاہر کیا تو وہ یہ سامان بھی پیدا کر دے گا۔جو مجھے اور آپ کو فکر ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جو حقیر قربانی ہم اس کے حضور پیش کریں، اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر فرد واحد کی قربانی کو قبول کرے۔اور اس کے نتیجہ میں جو اس کی رحمت نجے میں کی کے، پیار کے جلوے انسان دیکھتا ہے، وہ پیار اور رحمت کے جلوے ہم میں سے ہر شخص پر ظاہر ہوں۔یہ فکر کرنی چاہیے۔اس کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے، بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔پس ایک منصوبہ تو اپنی سمجھ کے مطابق بنایا، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے۔جماعت نے بحیثیت مجموعی بڑی قربانی کا ارادہ اور عزم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو بحیثیت جماعت اور ہر فرد جماعت کو انفرادی حیثیت میں اپنی رحمتوں کی چادر میں لپیٹ لے لیکن ہم میں سے ہر ایک کے لئے خوف کا مقام ہے اور دعاؤں کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے تضرع کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ بہت دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔پھر جو منصوبہ، ایک کوشش، ایک جدوجہد اور ایک جہاد کا بنایا گیا ہے، اس کے بہترین نتائج نکلنے کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے۔اور یہ طاقت بھی جو آسمان سے آتی اور زمین کی ہر مخالفت کو پاش پاش کر دیتی اور مٹادیتی ہے، اس آسمانی طاقت کے حصول کے لئے بھی انتہائی عاجزی کی ضرورت ہے، تضرع کی ضرورت ہے، ہر وقت دعاؤں کی ضرورت ہے۔پچھلے خطبہ میں، میں نے آپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ دعاؤں کا بھی ایک پروگرام اگلے خطبہ میں ( یعنی جو آج میں دے رہا ہوں۔) آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس کے متعلق اس عرصہ میں بھی اور پہلے بھی میں نے دعائیں بھی کیں اور میں نے سوچا بھی۔جو میں چاہتا ہوں، جو میری خواہش ہے، جو میں سمجھتا ہوں، اپنے مقصد میں کامیابی کی خاطر اور اپنی قربانیوں کے جو کہ حقیری قربانیاں ہیں، ان کے بہترین نتائج نکالنے کی خاطر ، جن عاجزانہ دعاؤں کی یا دیگر عبادات کی ہمیں ضرورت ہے، وہ میں آپ کے سامنے رکھوں۔جماعت میں کچھ کمزور بھی ہیں اور طاقت ور بھی ہیں۔کمزور اپنی تربیت کے لحاظ سے بھی ہیں، بڑے بھی ہیں اور چھوٹے بھی ہیں۔اور سب کو (یعنی طفل کی عمر تک کو ) میں عبادات کے اس منصوبہ میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں۔بعض ایسی نفلی عبادتیں ہیں۔( میں اس وقت سب نفلی عبادتوں کا ذکر کروں گا۔) بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ بعض عبادتیں کرنے کے قابل نہیں ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ جتنی میں نے کم سے کم حد مقرر کی ہے، اس سے زیادہ بھی کر 41