تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 505
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اکتوبر 1978ء امریکہ کا قومی مزاج بھی اور وہاں کے اخبارات اور ریڈیو اور ٹیلیویژن کا مزاج بھی انگلستان اور Continent کے مزاج سے مختلف ہے۔وہ چرچ کا دباؤ جلدی قبول نہیں کرتے۔اگر Lobbying زیادہ ہو جائے تو قبول کر لیتے ہیں۔لیکن اتنی جلدی قبول نہیں کرتے ، جتنی جلدی مثلاً میرے خیال میں لندن کے اخباروں نے کیا۔اگر چہ وہ اس سے انکار کرتے ہیں لیکن ان کے چپ رہنے کی کوئی اور وجہ نہیں تھی۔میں جب 1976ء میں نیو یارک گیا تو وہاں پر یس کا نفرنس میں ایک T۔V (ٹی وی والے بھی آئے ہوئے تھے۔وہاں T۔V(ٹی وی) پرائیویٹ ہے۔وہ اپنے پیسے کماتے ہیں اور بڑے پیسے کماتے ہیں۔ان کے نرخ بہت زیادہ ہیں۔ایک منٹ کے دو ہزار ڈالر یعنی ہیں ہزار روپیہ لیتے ہیں۔خیر وہ پریس کانفرنس میں آئے اور T۔V (ٹی وی) کے لئے تصویریں بھی لیتے رہے اور ان کی ٹیم کا انچارج جو پڑھا لکھا آدمی تھا، گفتگو بھی کرتا رہا۔اور اس رات کو یا شاید اگلی رات کو انہوں نے آدھے گھنٹے کی T۔V(ٹی وی) دکھادی۔گویا ساٹھ ہزار ڈالر یعنی چھ لاکھ روپیہ کی۔اگر ہم ان کو کہتے کہ اتنی دیر دکھاؤ تو وہ کہتے کہ چھ لاکھ روپیہ نکالو، تب دکھائیں گے۔پس خدا نے یہ تدبیر کر دی۔اور وہاں کے اخباروں نے بڑے لمبے نوٹ دیئے۔میں تو آرام آرام سے اور پیار کے ساتھ اسلامی تعلیم ان کو بتا تا ہوں۔اور اسلامی تعلیم میں آپ یا درکھیں، بڑا ہی حسن ہے اور بڑی ہی قوت احسان ہے۔ان کو سمجھانا چاہیے کہ دیکھو کس طرح قرآن کریم کی شریعت تم پر احسان کر رہی ہے؟ خدا تعالٰی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تمہاری بھلائی اور تمہاری شرافت کا اور ساری دنیا کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک لے جانے کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس کے اندر یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔اتنا اثر ہوتا ہے ان پر کہ آپ احمدی بھی یہاں گھر بیٹھے اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ان سے جا کر باتیں کریں تو تب پتا لگتا ہے۔ابھی میں مختصر کچھ باتیں بتاؤں گا، پھر اگلے خطبوں میں جتنا وقت ملے گا، بتا تا جاؤں گا۔اس وقت میں ایک حصہ بتا رہا ہوں، جس کا تعلق کا نفرنس کے ساتھ ہے۔اس کانفرنس میں سب سے آخر میں، میں نے بولنا تھا۔اور میرے لئے مسئلہ یہ تھا کہ سوائے دعا کے اور میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔کیونکہ اگر اس کو ایک کتاب کہیں تو کتاب کے بہت سے باب ہوتے ہیں۔اور مجھ سے پہلے کسی نہ کسی مقرر نے ان ابواب کے عنوان کے ماتحت چھوٹے سے چھوٹے مضمون کو بھی تفصیل سے بیان کر دیا تھا۔آخر میں میری باری تھی۔میں نے بڑی دعا کی ، بڑی دعا کی، دعا کی توفیق بھی خدا تعالیٰ دیتا ہے۔دعا یہاں سے شروع ہوئی کہ دماغ کھلتا ہی نہیں تھا۔بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے۔دماغ بند تھا۔کئی 505