تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 506
خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اکتوبر 1978ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم کئی گھنٹے لگاؤں لیکن ایک لفظ بھی نہ لکھا جائے اور نہ لکھوایا جا سکے۔کچھ سمجھ نہ آئے کہ کیا معاملہ ہے؟ خدا تعالیٰ نے دعائیں کروانی تھیں۔آخر وہ وقت بھی آیا کہ خدا تعالیٰ نے ان دعاؤں کو قبول کر لیا۔چنانچہ ایک دن ایک منٹ میں خدا تعالیٰ نے دماغ کھول دیا۔پہلے میں فرینکفرٹ میں قریب میں، بائیس دن رہا تھا۔وہاں بھی دماغ نہیں کھل رہا تھا۔میں نوٹ لکھتا تھا، لکھواتا تھا لیکن تسلی نہیں ہوتی تھی۔آخر جب خدائے عزیز و کریم کا فضل نازل ہوا اور میں نے مضمون مسلسل لکھوانا شروع کر دیا اور خدا نے بڑا فضل کیا کہ وہ ایسا مضمون ہوگیا، جس قسم کا میں خدا کے فضل سے امید رکھتا تھا کہ مجھے عطا ہو جائے گا۔اس سلسلہ میں ایک بات خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی کفن مسیح سے متعلق عیسائی دنیا میں بحث چل پڑی تھی۔ویسے تو یہ دیر سے کفن دکھا رہے ہیں لیکن انیسویں صدی میں بھی انہوں نے دو، تین دفعہ اس کی زیارت کروائی۔اور ستر ستر، اسی اسی لاکھ آدمی ہر زیارت پر وہاں گئے۔اور انہوں نے زیارت کی۔اور اخباروں میں اس کا چرچا ہوا۔سب کچھ ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عیسائی عقائد کے متعلق اتنا مواد اکٹھا کرنے کے باوجود کہ یہ عقائد مسیح کی شان کے خلاف ہیں، یہ عقائد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے خلاف ہیں، یہ انسانی عقل کے خلاف ہیں، یہ بنیادی حقائق عالمین کے خلاف ہیں، آپ نے کفن مسیح کا کہیں نام بھی نہیں لیا۔میں فرینکفرٹ میں ہی تھا کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ اس کو بالکل اہمیت نہیں دینی۔آج کل اسے بہت اہمیت دی جارہی ہے۔اور ہمارے بعض مضمون نگاروں نے بھی وہاں دی۔لیکن میری آخر میں باری تھی۔میں نے یہ موقف اختیار کیا کہ جہاں تک Shroud of Turin یعنی اس کفن مسیح کا تعلق ہے، جو انہوں نے ٹیورن میں رکھا ہوا ہے، ہمارے نزدیک اسے کوئی اہمیت نہیں دینی چاہیے۔اس لئے کہ اگر یہ محفوظ نہ رہتا اور مر در زمانہ اس کی یاد بھی انسان کے دماغ سے مٹادیتا ، تب بھی ان دلائل پر ، جو ہمارے پاس موجود ہیں، کوئی اثر نہ پڑتا۔لیکن اصل میں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو اہمیت نہیں دی اور آپ کے نائب یعنی خلیفہ وقت کو بھی نہیں دینی چاہیے۔چنانچہ میں نے کہا کہ لوگ اسے بھول ہی جاتے اور چودہ فٹ لمبی یہ چادر جو ہے، اگر تباہ ہو جاتی تو کیا فرق پڑتا تھا؟ ہمارے پاس بڑے زبر دست دلائل موجود ہیں۔یہ معاملہ تو چرچ کو طے کرنا چاہیے کہ اگر یہ بناوٹ تھی تو انہوں نے اس پر ماننے والوں کے اربوں روپے کیوں خرچ کروا دیئے کہ جو اس کو مقدس سمجھتے ہوئے دنیا کے کونے کونے سے اس کی زیارت کرنے کے لئے آئے؟ اور اگر یہ واقعی اصلی ہے تو ایک اور دلیل مل جائے گی۔اور ہمارے پاس تو ہزاروں دلائل پہلے سے موجود ہیں، اس کی کوئی ایسی اہمیت نہیں۔506