تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 465

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء اس کے اندر گھس گیا۔غرض کہ وہ ترقی کرتا چلا جارہا تھا حتی کہ تین صدیوں کے بعد یہ ترقی رک گئی اور تنزل کا دور شروع ہو گیا۔ترقی کے زمانہ میں نظر آرہا تھا کہ معروف دنیا میں ، معلوم خطہ ہائے ارض میں اسلام بڑھتا چلا جارہا ہے۔اور رحمة للعالمین اور کافة للناس میں جو بشارت دی گئی تھی اور جو وعدہ دیا گیا تھا، وہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔لیکن اس کے بعد تنزل آنا شروع ہو گیا۔یہ تنزل بھی اس قسم کا نہیں ہے، جو دوسروں پر آتا ہے۔اسلام پر کبھی ویسا تنزل نہیں آیا۔لیکن بہر حال وہ ترقی رک گئی اور ایک تنزل آنا شروع ہوا۔پین کی حکومت ختم ہو گئی اور وہ ملک مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔اور مسلمان ، جو پولینڈ تک آگے گئے ہوئے تھے، وہ علاقے ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔اور اب ترکی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو یورپ کے براعظم کے اندر ہے۔باقی ملک ادھر ہے۔اور تاشقند اور دوسرے بڑے بڑے علماء پیدا کرنے والے جو علاقے تھے، وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے۔چین میں بھی حکومت نہیں رہی۔پس ایک قسم کا تنزل ہے۔گواللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ اس قسم کا زوال نہیں، جیسا کہ دوسری قوموں اور دوسری امتوں پر آیا۔بلکہ اس زمانے میں بھی مسلمان میں روشنی اور جان نظر آتی ہے۔لیکن حالات کے لحاظ سے ہم اس کو تنزل کا زمانہ کہنے پر مجبور ہیں۔دوسری چیز جو ذہن میں آئی تھی، پھر رہ گئی، وہ یہ ہے کہ اس وقت اسلام ساری دنیا میں پھیل ہی نہیں سکتا تھا۔کیونکہ ہمارے ان علاقوں کے انسان کو دنیا کے بہت سے حصے معلوم ہی نہیں تھے۔مثلاً امریکہ ہے، نیوزی لینڈ ہے، آسٹریلیا ہے، یہ Unknown (غیر معلوم ) علاقے تھے اور انسان کو ان علاقوں کے جغرافیہ کا ہی پتا نہیں تھا۔وہاں کی آبادیوں کا ہی پتا نہیں تھا۔پس اگر اس وقت سارے کے سارے انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جاتے اور ہم سمجھتے کہ جمع ہو گئے ہیں، تب بھی ساری کی ساری نوع انسانی اسلام کے جھنڈے تلے جمع نہ ہوتی۔کیونکہ ایسے علاقے تھے، انسان سے آباد علاقے ، جن کا ہمیں علم ہی نہیں تھا اور وہاں اسلام کی تعلیم پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔کیونکہ ان علاقوں اور ان اقوام کو ہم جانتے ہی نہیں تھے۔مثلاً نبی آئی لینڈ کی ، جو پرانی آبادیاں ہیں، انہوں نے اس زمانے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہی نہیں سنا تھا۔اب ہمارا وہاں مشن ہے اور اللہ کے فضل سے اس پرانی قوم میں سے بھی (جو کہ قریباً چودھویں صدی میں ہی سامنے آئی ہے۔) مسلمان ہونے شروع ہو گئے ہیں۔غرض ہر دو جگہ پر یعنی جہاں رحمۃ للعالمین کہا وہاں بھی اور جہاں کافة للناس کہا وہاں بھی، ایک وعدے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ایک جگہ کہا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب پورا ہوگا ؟ یہاں قرآن 465