تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 464

خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم وَاِنْ اَدْرِى أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيْدُ مَّا تُوعَدُونَ (الانبیاء : 110) رسول بھی بشر ہوتا ہے اور رحمة للعالمین بھی بشر ہیں۔وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتے ، جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے علم نہ ہو کہ وہ وعدہ جس کا ذکر کیا گیا ہے، کب پورا ہوگا۔اور جب کافة للناس کہا تو وہاں یہ بتایا کہ ترقیات کی پہلی تین صدیوں کے بعد جب ایک ہزار سال گذر جائے گا تو اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ آ جائے گا۔یعنی چودھویں صدی سے اس وعدہ کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہو گا۔پس رحمة للعالمین اور کافۃ للناس میں ایک وعدہ ہے۔ویسے صرف نحو کے لحاظ سے وہاں وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ اور وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ ہے۔یعنی منصوب ہے۔لیکن جب ہم اس کو الگ بولیں تو کہیں گے کہ آپ رحمة للعالمین ہیں اور کافة للناس کی طرف آپ کی بعثت ہوئی۔ان آیات میں یہ وعدہ نہیں کہ آپ مبعوث تو ہوئے ہیں ، نوع انسانی کی طرف لیکن نوع انسانی کبھی بھی آپ کو قبول نہیں کرے گی۔یہ وعدہ نہیں ہے۔بلکہ وعدہ یہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو قبول کرے گی اور سارے کے سارے انسان سوائے چند ایک استثناء کے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔جب وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ بتایا گیا تو پہلی تین صدیوں کا ذکر چھوڑ دیا گیا۔کیونکہ پہلی تین صدیاں ترقیات کی صدیاں تھیں، ان میں اسلام بڑھتا چلا جارہا تھا۔اسلام عرب میں کامیاب ہوا، پھر عرب سے باہر نکلا۔پھر افریقہ کے براعظم پر چھا گیا۔صرف کامیاب ہی نہیں ہوا بلکہ چھا گیا۔پھر وہاں سے نکلا اور ایک طرف سپین کے رستے سے یورپ میں داخل ہوا اور قریباً سارے پین کو اپنی رحمت کے احاطہ میں لے لیا۔اور دوسری طرف ایک وقت میں ترکی کی طرف سے یورپ کے اندر گیا اور ان کے دل جیتتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ پولینڈ کے دل جیت کر پولینڈ سے پرے جو سمندر ہے، اس کے کناروں تک پہنچ گیا۔اور پھر ماسکو، جو آجکل کمیونزم کا دارالخلافہ ہے، ابھی ماضی قریب میں ہی تیمور کے زمانے میں یہ اس کی سلطنت کے ایک صوبے کا دارالخلافہ تھا۔تیمور کا اطلاعات دینے کا نظام بہت تیز رفتار تھا۔بادشاہ کوگھوڑوں پر بڑی جلدی ان علاقوں کی خبریں آجاتی تھیں۔پھر اسلام چین کی طرف بڑھا تو 464