تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 466

خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم کریم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فکر کی کیفیت بیان کی ہے اور پھر دوسری جگہ خدا تعالیٰ نے خود بتایا کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چودھویں صدی سے اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔اب ہم اس زمانہ میں ہیں اور آج کے زمانہ کے مسلمان پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اس لئے کہ جتنی بڑی بشارتیں کسی امت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے رسول کے ذریعہ سے ملتی ہیں اور ہمارے سول صلی الہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور فضل الرسل ہیں، اتنی ہی بڑی ذمہ داریاں بھی ان پر ڈالی جاتی ہیں۔اور اتاہی یہ احساس بھی پیدا کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے نفس میں اور اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اور اس کے اندر کوئی زور نہیں اور نہ کوئی طاقت ہے کہ وہ خدائی امداد اور نصرت کے بغیر اپنے زور سے قربانیاں کر کے ان وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے۔انسان کو تو یہ کہا گیا ہے کہ جتنی تجھ میں طاقت ہے، وہ کر دے۔اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے، اس کی نصرت اور اس کی امداد سے ہوتا ہے۔پس اس زمانہ میں یہ وعدہ ہے کہ نوع انسانی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو کر عملاً انسان کے سامنے یہ تصویر پیش کرے گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمة للعالمین ہیں۔اعتقاد ا نہیں بلکہ عملاً یہ تصویر پیش کرے گی۔کیونکہ الا ماشاء اللہ چند ایک استثناؤں کے علاوہ ساری دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور آپ پر ایمان لا کر آپ کے روحانی فیوض سے حصہ لیا۔یہ دعاؤں کے نتیجہ میں ہو گا اور اس دعا کے نتیجہ میں، جو اس دل سے نکلی تھی ، جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء:04) اور دنیا کے سامنے عملا یہ نقشہ آ جائے گا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم کسی ایک علاقے کسی ایک ملک یا کسی ایک نسل کے لئے رسول نہیں ہیں بلکہ کافة للناس کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔اور یہ عملاً ثابت ہو جائے گا۔کیونکہ انسانوں کی بھاری اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے گی اور خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو جائے گا۔گو وہ اس شکل میں بیان نہیں ہوا۔لیکن وہ اپنے معنی کے لحاظ سے اس میں بیان ہو چکا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے، ان دونوں آیتوں کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اور پھر ایک جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ چودھویں صدی میں اس وعدے کے پورا ہونے کا زمانہ آ جائے گا۔پس اس زمانہ میں ہم پر بڑی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔اس کے لئے ہم کوشش کرتے ہیں۔لیکن ہماری کوششیں حقیر ہیں۔اس کے لئے سب سے بڑی تدبیر یہ ہے کہ ہم اس سے زیادہ خدا تعالیٰ کے 466