تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 460
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اپریل 1978ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کمزوروں اور غریبوں اور بے کسوں اور بے سہاروں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طور پر ایک انقلاب عظیم بپا کر رہا ہے۔لیکن وہ نہ میری کسی خوبی کا نتیجہ ہے، نہ آپ کی اور نہ ان مبلغین کی۔وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے۔لیکن بہر حال یہ مبلغ نمایاں ہو کر اور ممتاز حیثیت میں ایک واقف زندگی کے طور پر غیر ممالک میں کام کرتے ہیں، پھر کچھ عرصہ کے لئے یہاں آجاتے ہیں، پھر دو، چار مہینے کی چھٹی گزار کر یہاں کام کرتے ہیں اور پھر وہ مختلف ممالک میں بھیج دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں بھی واقفین زندگی ہیں، جو کہ اصلاح اور تربیت کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سایہ میں رکھے اور روح القدس سے ان کی مدد کرتا رہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی حفاظت میں رہیں اور ہر شر سے خدا تعالیٰ انہیں محفوظ رکھے اور ہر خیر کے دروازے ان پر کھولے۔جماعت احمدیہ کے قیام کے بعد ساری دنیا میں جو اشاعت اسلام کے لئے ایک جہاد اور ایک مجاہدہ شروع ہے، اس میں بعض پروگرام بعض خصوصی اوصاف کے حامل بھی ہوتے ہیں۔مثلاً غانا میں جو ان کے سارے ملک کے یا کسی ریجن کے سالانہ جلسے ہوتے ہیں، ان کی حیثیت روزانہ کی تبلیغ سے مختلف ہے۔اسی طرح امام وقت باہر جا کر اپنے رنگ میں جو تبلیغ کرتے اور لوگوں سے ملتے اور ان کا دل جیتنے کی کوشش کرتے اور اسلام کی پیاری تعلیم ان کے سامنے رکھتے ہیں ،اس کا اپنا ایک رنگ ہے۔پھر بعض ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں کہ کوئی واقعہ ہوتا تو کسی ایک ملک میں ہے لیکن اپنے اثر کے لحاظ سے اور اپنے جذب کے لحاظ سے اس کا تعلق ساری دنیا سے ہوتا ہے۔مثلاً 23 اور 4 جون کولندن میں ایک کانفرنس ہورہی ہے، جس میں قرآن عظیم کی تعلیم کی صداقت پر خود عیسائی مصنفین بھی مقالے پڑھیں گے۔بڑے بڑے عیسائی مصنفین نے تحقیق کر کے کتابیں لکھی ہیں کہ قرآن کریم کا بیان سچا ہے۔میں اس کی تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا تاہم بڑی ریسرچ ہوئی ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا تھا۔وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ (النساء: 158) کہ حضرت مسیح کے مخالفین انہیں قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔نہ انہیں صلیب پر مارنے میں کامیاب ہوئے۔اب عیسائیوں کی طرف سے درجنوں ایسی کتاب میں لکھی جاچکی ہیں، جو کہ انہوں نے بڑی محنت اور کاوش کے بعد تحقیق کر کے شائع کی ہیں۔اور ان میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح 460