تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 459
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اپریل 1978ء اسی لئے ہمارے بہت سے نوجوان اور کچھ بڑی عمر کے دوست بھی باہر گئے ہیں اور باہر جاتے ہیں اور تبلیغ کے کاموں میں مشغول ہیں۔اور یہی نہیں کہ پاکستان کے احمدی غیر ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں۔بلکہ غیر ممالک میں بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگیاں وقف کرنے والے لوگ پیدا ہو چکے ہیں۔ان میں سے بہت سے تو اس وقت اپنے اپنے ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔لیکن بعض ایسے بھی ہیں، جن کو خدا تعالیٰ دوسرے ممالک میں کام کرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔جیسا کہ عبدالوہاب بن آدم ہیں۔وہ احمدی ہوئے ، پھر انہوں نے وقف کیا، پھر وہ یہاں آئے اور جامعہ احمدیہ میں شاہد کیا ، پھر وہ اپنے ملک غانا میں گئے اور پاکستانی امیر کے ماتحت انہوں نے وہاں تبلیغ کی۔پھر وہ انگلستان میں بھیجے گئے اور انگلستان جا کر اس افریقن نے جس کا دل اور سینہ نور سے بھرا ہوا تھا، سفید فام باشندوں کو اسلام کی تبلیغ کی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو بڑا ہی پیارا بنایا ہے۔وہ مسکراتے ہوئے اسلام کی خوبیاں دوسروں کے سامنے رکھتا تھا۔اور اب وہ اپنے ہی ملک میں واپس جا کر کام کر رہے ہیں۔اور ممکن ہے کہ ایک ، دو سال تک ان کو افریقہ کے کسی اور ملک میں یا امریکہ میں بھجوا دیا جائے اور وہ وہاں جا کر کام کریں گے۔پس صرف ہمارا ہی ملک واقفین زندگی پیدا نہیں کر رہا بلکہ غیر ممالک بھی پیدا کر رہے ہیں۔ہمارے انگلستان کے مبلغ آرچرڈ صاحب، انہوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ با قاعدہ واقف زندگی مبلغ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ رضا کارانہ طور پر کام کرنے والوں میں تو اس وقت میرے خیال میں درجنوں ممالک شامل ہو چکے ہیں۔وہ لوگ عملاً واقفین زندگی ہیں لیکن جماعت سے گزارہ نہیں لیتے۔وہ ساتھ اور بھی کام کرتے ہیں لیکن 5 گھنٹے 7 گھنٹے ، 8 گھنٹے روزانہ تبلیغ اسلام کا کام کر رہے ہیں۔ہمارے ان بھائیوں کا کام ایک رنگ میں فرض کفایہ سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن اصل میں تو یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی روشنی کو دنیا میں پھیلائے۔لیکن چونکہ سب لوگ نہیں کر سکتے ، اس لئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ کچھ لوگ مرکز میں آیا کرو اور دین سیکھا کرو اور پھر اپنے علاقوں میں جا کر دین کو پھیلاؤ۔ہمارے یہ بھائی، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دے کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اور جو را ہیں محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے معین کی ہیں، جن پر آپ کے اسوہ کے نقش قدم ہمیں نظر آتے ہیں ، جو راہیں خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا کی طرف لے جانے والی ہیں، ان راہوں کی طرف غیر مسلموں کو پیار اور محبت کے ساتھ اور دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ لانے والے ہیں، ان کا ہم پر یہ واجب حق ہے کہ ہم ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہیں۔ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔لیکن ان تھوڑوں اور 459