تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 461
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اپریل 1978ء علیہ السلام کے مخالف ان کو قتل کرنے میں یا صلیب پر ان کی جان لینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔بلکہ وہ صلیب سے بچ گئے۔قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق امت محمدیہ کو جوتعلیم دی تھی ، اس کی مخالفت اوروں نے بھی کی تھی۔لیکن سب سے زیادہ مخالفت عیسائیوں نے کی تھی۔ان کے اپنے کچھ عقائد تھے ، جن کی روشنی میں انہوں نے مخالفت کی۔لیکن جیسا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: 10) میں جو بشارت دی گئی ہے، اس کا تعلق آخری زمانہ سے ہے۔وہ آخری زمانہ، جو سیح اور مہدی کا زمانہ ہے۔اور اس آخری زمانہ میں اسلام کا مذہب ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔چنانچہ اس زمانہ میں نئی سے نئی تحقیق ہو کر وہ حقائق، جو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی سے تعلق رکھنے والے اور ان کی وفات سے تعلق رکھنے والے ہیں، ( ہر انسان آخر مرتا ہے۔ان پر بھی ایک وقت میں موت آئی۔وہ حقائق کھل کر سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔تاہم اس کا یہ نتیجہ تو نکلنا چاہئے تھا اور نکلا کہ وہ منکرین، جنہوں نے ایسی کتابیں لکھیں اور جو ابھی تک عیسائی ہیں، ان کو بھی عیسائی دنیا نے پسند نہیں کیا۔اور بعض کو تکالیف پہنچانے کی کوشش بھی کی۔یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے، کوئی ایسی بات نہیں۔لیکن یہ کانفرنس جو 2,3,4 جون کو ہورہی ہے، جب اس کا ذکر اخباروں میں آنا شروع ہوا تو اس کی اچھی خاصی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔اور یہ خوشی کی بات ہے۔اگر مخالفت نہ ہوتی تو ہم پریشان ہوتے کہ کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کوشش کو قبول نہیں کیا ؟ غرض بعض طرف سے بڑے غصے کا اظہار ہورہا ہے۔لیکن غصہ اپنی ذات میں بے جا ہے۔میں نے بڑا سوچا، مجھے تو کبھی غصے کی کوئی معقول دلیل نظر نہیں آئی۔جس چیز کو تمہیں عقلی دلائل کے ساتھ یا آسمانی نشانوں کے ساتھ یا مجزا نہ قبولیت دعا کے ذریعہ سے صحیح ثابت کرنا چاہئے ، اس کے مقابلہ میں محض غصہ دکھا دینا تو کسی چیز کو سچ ثابت نہیں کرتا۔بہر حال ہمارا کام غصہ کرنا نہیں۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دلائل کے ساتھ اور پیار کے ساتھ اور دعاؤں کی قبولیت کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی متصرفانہ اور معجزانہ طاقتوں کا ثبوت دے کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت انسان کے دل میں بٹھانے کی کوشش کریں۔اور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور متفرعانہ گریہ وزاری کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے دامن کو پکڑ کر اس سے چمٹ کر اس سے یہ کہیں کہ اے خدا! تیری تو حید اور محد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قیام کے لئے جو کچھ ہم کر رہے ہیں، ہماری ان حقیر کوششوں کو 461