تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 444

ارشاد فرمودہ 03 اپریل 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اس کپڑے کی دے دیں۔ہم سائینٹیفک طریقے سے تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کپڑا کس وقت بنا تھا؟ انہوں نے انکار کر دیا اور کترن نہیں دی۔کیونکہ ان کو پتہ تھا، وہ کپڑا محفوظ رکھا ہوا ہے۔اس کی تاریخ ہے کہ اس وقت سے یہ محفوظ چلا آرہا ہے۔لیکن یہ ایک اور شہادت پیدا ہو جانی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اتارے گئے۔اس لئے انہوں نے اجازت نہیں دی۔یہ میں تمہید بتا رہا ہوں۔جو اصل واقعہ ہے، وہ بڑا عجیب ہے۔جس کے لئے ہمیں زبان دانی کی ضرورت ہے۔ان کی جو آفیشل بلیٹر نکتی ہیں، خاص نام کے ساتھ ، پوپ کی ایک بلیٹن شائع ہو چکی ہے۔لیکن دنیا کواس کا نہیں پتہ چلا۔وہ ان کے اپنے ہاں چلی گئی کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر مرے یا نہیں مرے، عیسائیوں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یعنی آئندہ کے لئے اپنی زمین ہموار کر لی ناں۔لیکن اس وقت وہ پلیٹن شائع ہو کر اس کے ترجمے نہیں ہوئے، پھیلی بھی نہیں۔عام طور پر نہیں پھیلی۔لیکن چونکہ جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ ہمیں مل جاتی ہے۔لیکن پتہ نہیں اور کون سی باتیں ہیں، جو ہمارے نظر سے اوجھل ہیں؟ اگر اٹالین زبان جاننے والے احمدی ہوں، وہاں ہمارے مبلغ بیٹھے ہوئے ہوں تو روز مرہ کی یہ چیزیں سامنے آجا ئیں۔بہت ساری اور چیزیں بھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے صداقت بتائی ہے۔دنیا اب اس کی شہادتیں دے گی کہ جو مجھے بتایا گیا ہے، وہ درست ہے۔چنانچہ بیسیوں، سینکڑوں شہادتیں ملی ہیں۔ان میں سے ایک latest یہ بھی ہے۔وہ کتاب بڑی دلچسپ ہے۔میں نے انگلش ترجمہ سارا پڑھا ہے۔اتنی عجیب تحقیق کی ہے انہوں نے کہ کوئی شعبہ نہیں چھوڑا ، یہ گویا سائینٹیفک evidence یعنی سائنس کی شہادت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ جو بھی واقعہ ہوا ہے، اس کے نتیجے میں صلیب پر وہ مربی نہیں سکتے تھے۔یعنی سائنس کے لحاظ سے اس صورت میں ان کی وفات ہو ہی نہیں سکتی۔اور عملاً نہیں ہوئی۔اور ان کو زخمی حالت میں صلیب پر سے اتار لیا گیا۔وہ شراؤڈ بتاتی ہے کہ بعد میں ان کے جسم سے خون رستارہا اور جو چیز زخم سے رس کر آئی ہے، اس کی شہادت یہ ہے کہ وہ مردہ کے جسم سے نہیں رکھتا۔اور اس پر اچھا خاصا بڑا داغ لگا ہوا ہے۔اور یہ بہت بڑی شہادت ہے۔کچھ تو میرے ذہن میں بھی نہیں اور اتنا بیان بھی نہیں کیا جاسکتا۔پس یہ چیزیں بھی بڑی ضروری ہیں۔ابھی پرسوں ہی جرمن زبان میں ایک کتاب میرے پاس براہ راست آگئی تھی۔مجھے نہیں پتہ اس میں کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اس میں بڑی دلچسپ باتیں ہیں۔جرمن زبان جاننے والے یہاں ہیں، ان کو اس کا پتہ لگ جائے گا۔اصل تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 444