تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 443 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 443

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 03 اپریل 1977ء ان کو ایک چادر میں لپیٹ کر ایک کھوہ میں، ایک غار میں رکھا گیا تھا۔وہ چادر ابھی تک محفوظ ہے۔یہ خدا کی شان ہے۔اور اس میں ہمارے لئے دو چیز میں بڑی دلچسپ ہیں۔ایک تو اس پر حضرت مسیح علیہ السلام کے چہرے کی تصویر کا نیگیٹو آ گیا۔وہ جومر ہم عیسٹی لگائی گئی، اس نے ان کے چہرے کے فیچر دے دیئے۔اب تک جتنی تصویر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی انہوں نے شائع کی تھیں ، وہ بالکل اور تھیں۔وہ ان کے ذہنی تصور کی پیداوار تھیں۔وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی اصل تصویر نہیں تھی۔ویسے دو مختلف تصویریں ہیں۔ایک تو یونانیوں کے چرچ کی تصویریں اور دوسرے جو عام انگلستان وغیرہ سے آتی ہیں۔اور یہ تصویر بالکل الگ ہے۔غرض وہ تصویر چھپ کر سامنے آگئی۔انہوں نے اس کے نیگیٹو پرنٹ لئے اور ان کے پورے فیچرز ، خدو خال ابھر کر سامنے آگئے۔دوسرے بہت سے سائنسدانوں نے ریسرچ کی اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم (اتنے آدمیوں ) نے ریسرچ کی ہے۔تعداد مجھے صحیح یا نہیں، کافی تعداد میں تھے۔کئی سوتو نہیں تھے، غالباً پچاس کے قریب تھے۔اور وہ چوٹی کے سائنسدان ہیں۔اور وہ اس تحقیق کی اتنی تفصیل میں گئے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے میں اس علاقے میں جو نیزہ استعمال ہوتا تھا، وہ انہوں نے عجائب گھروں سے لیا اور پھر اس کے مطابق انہوں نے جو اس وقت سولی پر لٹکانے کا طریق تھا، اب تو گلے میں پھندا ڈالتے ہیں اور ایک ہی جھٹکے میں جان نکل جاتی ہے، لیکن اس وقت زندہ گاڑ دیتے تھے، سولی پر۔اس وقت اس کیفیت میں دل اس جگہ نہیں ہوتا، جہاں لیٹنے کے وقت انسان کے جسم میں ہوتا ہے۔اور انہوں نے ساری تحقیق کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ کفن پر جو پانی نکلا ہے، اس جگہ دل تھا ہی نہیں۔یعنی نیزے نے اگر وہ دل کی جگہ کے اندر گھسا بھی ہے تو دل وہاں موجود نہیں تھا۔اس واسطے نیزے کا زخم ان کو مار نہیں سکتا۔اور ساری تحقیق سے، سائینٹفک تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے۔وہ زندہ اتارے گئے اور قبر نما غار میں وہ زندہ رہے۔یہ انہوں نے نتیجہ نکالا۔اب وہ چھپ گیا۔جرمن زبان میں تحقیق ہوئی ہے۔پھر انگریزی میں ترجمہ ہو گیا۔اور ایک اور زبان میں ہو گیا۔وہ ہمارے پاس موجود ہے۔اب ان کے عقیدہ کی جو بنی تھی، وہ تو ختم ہوگئی۔ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔اب یہ نیا علم نکلا ہے۔آج سے جودو ہزار سال پرا ناروئی کا کپڑا ہے، ایسے ٹیسٹ بن گئے ہیں یقینی طور پر کہ وہ بتا دیتے ہیں کہ اس کی روٹی کب پیدا ہوئی تھی ، سو سال پہلے یا دس سو سال پہلے یا پندرہ سو سال پہلے یا دو ہزار سال پہلے؟ وہ ٹیسٹ بتا دیتا ہے۔یہ چادر جس کو شراؤڈ کہتے ہیں یا کفن مسیح ، یہ ایک جگہ چرچ میں ہے۔بعض سائنسدانوں نے پوپ کی خدمت میں گزارش کی کہ مہربانی کر کے ایک چھوٹی سی کترن ہمیں 443