تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 431

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده یکم اپریل 1977ء کہ اتنا کام ہورہا ہے اور ہمیں بھی نہیں پتہ کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے؟ پس جو بھی ابلاغ کے، باتوں کو پہنچانے کے ذرائع ہیں، وہ مہیا ہونے چاہئیں۔ایک تو مثلاً الفضل ہے۔یہ بھی اپنی رٹ میں پڑا ہوا ہے۔کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے تو میں چھوٹا سا نوٹ تیار کے ان کے سپر د کر دیا کرتا ہوں ( کبھی افریقہ سے کوئی خط آ گیا، سےخط یہ میں شائع کبھی کوئی امریکہ سے خط آگیا، بڑی دلچسپ باتیں ہوتی ہیں۔) کہ یہ نوٹ الفضل میں شائع کر دوں۔کبھی کبھی چھپتے رہتے ہیں۔آپ دیکھ لیتے ہوں گے۔تحریک جدید کو کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیے کہ باہر سے جتنی رپورٹیں آئیں ، ان کا خلاصہ ضرور الفضل میں چھپ جائے۔لیکن اگر چھپ بھی جائے تو آپ سارے افضل خریدتے نہیں۔جو خریدتے ہیں، وہ پڑھتے نہیں۔کم از کم مساجد میں یہ چیزیں تو سنا دیا کریں۔میرے خطبے ہیں، میں کوشش کرتا ہوں ( پتہ نہیں خدا کے نزدیک قبول ہوتی ہے یا نہیں۔) کہ کوئی نہ کوئی کام کی بات آپ کو خطبے کے ذریعے پہنچا دوں۔دیکھیں ، شاید آپ میں سے کسی کو فائدہ ہو جائے۔خدا تعالیٰ کے جو فضل باہر ہورہے ہیں، بحیثیت جماعت وہ آپ کے سامنے آنے چاہئیں۔آپ کو دوسروں کو بھی بتانا چاہئے۔شور مچادیا کہ جی انہوں نے اپنا کلمہ اور بنا لیا۔یہ جو سلائیڈ ز دکھائی گئیں، ان سے پھر اور آگے خیال آتا ہے۔دس پندرہ مساجد تھیں۔اب یہ کہ ان کا کلمہ اور ہے، نیو یارک کی مسجد، واشنگٹن کی مسجد، ڈیٹن کی مسجد، ہیمبرگ کی مسجد ، سلائیڈز میں ان کے اوپر لا الہ الا الله محمد رسول اللہ دیکھ کر غیر احمدیوں نے کہا، یہ کیا ؟ مولوی تو کہتے تھے کہ ان کا کلمہ اور ہے۔دنیا میں ہر جگہ مسجدوں کے اوپر یہ کلمہ لکھا ہوا ہے۔ویسے مسجد پر کلمہ لکھنا تو ضروری نہیں ہے۔لیکن اگر لکھا ہوا ہو تو وہ ہماری تبلیغ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔قرآن کریم کا رسم الخط بھی اتنا مختلف ہے کہ ایک عربی بولنے والے ملک کے سفیر نے راولپنڈی میں ہمارے ایک احمدی کو کہا کہ یہ تحفہ میری طرف سے (میرے متعلق کہا کہ ) ان کو دے دینا۔ایک نسخہ غالبا ان کو بھی دیا۔کہنے لگا کہ اس کو پڑھ سکتے ہو؟ ہم لوگ تو چونکہ پڑھتے رہتے ہیں، جو احمدی حافظ نہیں ہیں، وہ بھی قرآن کریم کثرت سے پڑھتے ہیں، اس واسطے ان کے لئے مشکل نہیں ہوتا۔لیکن وہ ایسے رسم الخط میں تھا، جو اس ملک کا قرآن کریم کا رسم الخط ہے۔اور عام آدمی اس کو پڑھ ہی نہیں سکتا۔اب کوئی بیٹھے ہوئے اعتراض کر دے کہ انہوں نے قرآن کریم اور بنالیا ہے، رسم الخط کے فرق کے ساتھ۔تو یہ تو ض لاعلمی کی دلیل ہے۔پس اگر صحیح چیزیں سامنے آجا ئیں تو یہ غلط فہمیاں بھی دور ہو جاتی ہیں۔بہر حال دنیا میں اسلام کے حق میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔اور وہ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے والی ہے۔ہمارے مسائل بدل رہے ہیں ، ہماری قربانیوں کی شکل بدلے گی۔ورنہ کوئی 431