تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 398 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 398

اقتباس از خطاب فرمود 060 نومبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم اس انقلاب عظیم کی عظیم حرکت کا اپنے اس آخری دور میں داخل ہو جانا، ہم سے دو بنیادی مطالبے کر رہا ہے۔اس وقت میں انہی دو مطالبوں کے متعلق آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اول: نوع انسانی کو امت واحدہ بنا کر اور ایک خاندان کی حیثیت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے کا کام ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہماری اپنی صفوں میں کامل اور پختہ اتحاد قائم ہو۔پس چونکہ نوع انسانی کو امت واحدہ بنادینا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں اور ارشادات کے مطابق مسیح اور مہدی علیہ السلام اور آپ کی جماعت کا کام ہے، اس لئے آپ کی جماعت میں کسی قسم کا انتشار نہیں ہونا چاہیے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کی رو سے اتحاد و اتفاق کا کامل نمونہ، جس میں کوئی رخنہ نہ ہو، وہ ہماری جماعت میں نظر آنا چاہیے۔دوم : اس انقلاب عظیم کا اپنے دوسرے دور میں داخل ہو جانے کی وجہ سے دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ دین اسلام کے غلبہ کے لئے اور نوع انسانی کو امت واحدہ بنانے کے لئے جو منصوبے تیار کئے جائیں اور جو تدابیر اختیار کی جائیں، ان میں بجتی پائی جائے۔اور اس کی ضرورت خصوصاً اس لئے بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جہاں انسان پر روحانی ترقیات کے بے انتہا دروازے کھولے ہیں، وہاں اس کو شیطانی وساوس اور شیطانی رخنوں سے حفاظت نہیں دی۔انسان کو قرآن کریم کے ذریعہ کامل ہدایت دی لیکن ساتھ ہی اس کو آزادی دی اور فرمایا:۔إمَّا شَاكِرًا وَ إِمَّا كَفُورًا چا ہوتو خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اسلامی تعلیم پر عمل کرو۔اور اگر چاہو تو اپنی مرضی سے کفران نعمت کرو اور غلط راہوں پر پڑ جاؤ۔ایک دوسری جگہ فرمایا: حق آ گیا ہے، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ دوسری طرف قرآن کریم نے شیطان کے متعلق تمثیلی زبان میں ذکر کیا ہے۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ شیطان کیا ہے اور وہ کس طرح انسان پر حملے کرتا ہے؟ یہ بحث میرے مضمون سے تعلق نہیں رکھتی۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کہتا ہے، شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے۔لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وہ جتنا مرضی زور لگالے، جو خدا کے بندے ہیں، وہ تو خدا کے بندے ہی رہیں گے۔اب چونکہ ساری دنیا کو ساری نوع انسانی کو امت واحدہ بنانا ہے۔اور امت واحدہ بنا کر 398