تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 399

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 06 نومبر 1977ء خدا تعالیٰ کے قدموں میں جمع کرنا ہے۔اس لئے عقلاً بھی اس وقت شیطان کا حملہ اتناز بردست ہونا چاہیے کہ اس سے پہلے اتناز بر دست حملہ کبھی نہ ہوا ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اسی قانون قدیم کے لحاظ سے خدا نے اپنے پاک نبیوں کی معرفت یہ خبر دی ہے کہ جب آدم کے وقت سے چھ ہزار برس قریب الاختتام ہو جائیں گے تو زمین پر بڑی تاریکی پھیل جائے گی اور گناہوں کا سیلاب بڑے زور سے بہنے لگے گا۔اور خدا کی محبت دلوں میں بہت کم اور کالعدم ہو جائے گی۔تب خدامحض آسمان سے بغیر زمینی اسباب کے آدم کی طرح اپنی طرف سے روحانی طور پر ایک شخص میں سچائی اور محبت اور معرفت کی روح پھونکے گا۔اور وہ مسیح بھی کہلائے گا۔کیونکہ خدا اپنے ہاتھ سے اس کی روح پر اپنی ذاتی محبت کا عطر ملے گا۔اور وہ وعدہ کا مسیح ، جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی کتابوں میں مسیح موعود بھی کہا گیا ہے، شیطان کے مقابل پر کھڑا کیا جائے گا۔اور شیطانی لشکر اور مسیح میں یہ آخری جنگ ہوگا۔اور شیطان اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اور تمام ذریت کے ساتھ اور تمام تدبیروں کے ساتھ اس دن اس روحانی جنگ کے لئے تیار ہو کر آئے گا۔اور دنیا میں شر اور خیر میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی ہوگی، جیسے کہ اس دن ہوگی۔کیونکہ اس دن شیطان کے مکائد اور شیطانی علوم انتہا ء تک پہنچ جائیں گے۔اور جن تمام طریقوں سے شیطان گمراہ کر سکتا ہے، وہ تمام طریق اس دن مہیا ہو جائیں گے۔تب سخت لڑائی کے بعد، جو ایک روحانی لڑائی ہے، خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی۔اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور توحید زمین پر پھیلتی جائے گی۔اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے، جو سا تواں دن کہلاتا ہے۔بعد اس کے دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔سووہ مسیح میں ہوں۔اگر کوئی چاہے تو قبول کرے۔لیکچر لا ہور صفحہ 33-32 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 179-178) پس چونکہ یہ شیطان کے ساتھ آخری جنگ ہے۔اور چونکہ یہ شر اور خیر کے درمیان آخری معرکہ آرائی ہے۔اور چونکہ شیطان کی ساری کی ساری تدبیریں اس میں استعمال کی جانے والی ہیں، اس لئے آپ نے فرمایا کہ دنیا میں ایسی جنگ، جو دین اور لادینیت، خیر اور شر کے درمیان لڑی جانی ہے ، وہ آدم کی 399