تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 375
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء لئے اکٹھے ہوئے تھے، ان کی مالی قربانی دونی، چونی اور اٹھی تھی۔لیکن یہ دونی ، چونی اور اٹھنی کی قربانی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ نظر آ رہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے پہلے مقام سے نکل کر ایک درجہ آگے بڑھ گئے ہیں۔اور ان کے اندر ایک انقلابی حرکت پیدا ہوگئی ہے۔چنانچہ اس بات کو دنیا پر واضح کرنے کے لئے کہ کس طرح انقلابی مدارج طے کرنے والی ایک جماعت پیدا ہوگئی ہے، آپ نے شروع میں دونی، چونی اور اٹھنی دینے والوں کے نام اپنی کتب میں لکھ دیئے کہ یہ وہ مخلصین ہیں، جنہوں نے دونی دی یا چونی دی یا اٹھنی دی۔تا کہ ایک تو قیامت تک مخلصین احمدیت ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔اس لئے کہ انہوں نے ابتدائی زمانہ میں خدا کی راہ میں قربانیوں کی بنیاد ڈالی اور قربانی کرنے والی جماعتوں کے لئے ایک نمونہ بنے کی توفیق پائی۔اور دوسرے یہ کہ آنے والی نسلوں کو پتہ لگے کہ جماعت احمد یہ کس طرح ایک چھوٹی سی قربانی سے چلی تھی لیکن مختلف مدارج طے کرتی ہوئی اب وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے؟ پس جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے، انہی سلسلے کی ترقی کے لئے یہ بھی ضروری ہے۔ویسے صرف مالی قربانی ہی نہیں۔خدا تعالیٰ ہم سے ہر قسم کی قربانی مانگتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:04) کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے، وہ میری راہ میں تمہیں واپس کرنا پڑے گا۔مثلاً ہمارا وقت ہے، ہماری دولت ہے، ہماری اولاد ہے اور ہمارے جذبات ہیں، یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔اور ان کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔جماعت احمد یہ اس قسم کی قربانیوں کی مثال آپ ہے۔مثلاً جذبات کی قربانی کو لے لیں۔1974ء میں خدا تعالیٰ نے جماعت سے جذبات کی کتنی بڑی قربانی کی ؟ مگر اس نے اپنے فضل سے انعام بھی بہت بڑا دیا۔ہم اس کے فضلوں کا شمار نہیں کر سکتے۔بہر حال مالی قربانی چونکہ حساب کے اندر بندھ جاتی ہے، اس لئے اس کا بار بار ذکر ہوتا رہتا ہے۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے وہ لوگ جو دو آنے ، چار آنے چندہ دینے والے تھے، ان کی اس قربانی کے مقابلہ میں ان پر جوفضل نازل ہوئے ، اس کی کوئی نسبت ہی نہیں۔میں ایک شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دونی، چونی دینے والوں میں سے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کو اولاد دی۔ان کے چار، پانچ لڑکے مشرقی افریقہ چلے گئے۔ان کا باپ، جو خدا کی راہ میں چار آنے دینے والا تھا، خدا تعالیٰ اس قربانی کے نتیجہ میں ان کو چار چار، چھ چھ بلکہ آٹھ آٹھ ہزار 375