تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 374

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم راہوں کو اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان تک پہنچا دے گا۔یعنی امت محمدیہ کو انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے انتہائی ترقی کی۔لیکن اس میں تدریج کا اصول کارفرما رہا۔تدریج کے اصول میں ہر دوسرا دور پہلے سے زیادہ بڑا بھی ہوتا ہے اور بڑا کٹھن اور مشکل بھی ہوتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو دیکھ لیں۔اپنی بعثت کے ابتدائی ایام میں آپ خود بھی اپنے صحابہ کے ساتھ چھپ چھپ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے۔یہ کمزوری کا زمانہ تھا۔پھر ترقی ہوئی اور مسلمانوں نے کھل کر نمازیں پڑھنی شروع کیں۔گو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو نہایت بلند تھا لیکن آپ اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے تھے۔حالانکہ آپ تو اس وقت بھی خانہ کعبہ میں جا کر نماز ادا کر لیتے تھے۔لیکن جہاں تک باجماعت نماز کا تعلق ہے، صحابہ کی روحانی نشو و نما میں ابھی اتنی طاقت نہیں پیدا ہوئی تھی کہ وہ کھل کر نماز پڑھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ وہ اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں۔اس لئے آپ بھی ان کے ساتھ نماز با جماعت چھپ کر پڑھتے تھے۔پھر ایک زمانہ ایسا تھا، جس میں نماز فرض ہی نہیں تھی۔پھر ایسا زمانہ تھا، جس میں روزے ابھی فرض ہی نہیں تھے۔پھر ایک ایسا زمانہ تھا ، جس میں زکوۃ فرض ہی نہیں تھی۔پھر ایک ایسا زمانہ تھا، جس میں شراب حرام ہی نہیں تھی۔مگر جب آہستہ آہستہ مسلمان نماز پڑھنے، روزے رکھنے اور زکوۃ دینے کے قابل ہو گئے تو ان کی ادائیگی بطور فرض لازمی قرار دی گئی۔چنانچہ وہ لوگ، جو زمین پر بھی زندہ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے ، وہ ترقی کرتے کرتے اخلاقی اور روحانی طور پر آسمانی وجود بن گئے۔خدا تعالیٰ نے دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں دے دی۔انہوں نے کسی قسم کا استحصال کئے بغیر بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کا ایک ایسا عجیب نمونہ دکھایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ الہی سلسلے اپنی قربانیوں کو آہستہ آہستہ بڑھاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ان کی زندگی میں پہلو بہ پہلو ایک تدریجی عمل کار فرما ہوتا ہے۔یعنی ان کی جتنی بڑی قربانی ہوگی، جتنا بڑا ایثار ہوگا، جتنی زیادہ فدائیت ہوگی اور خدا کی راہ میں انسان جتنی زیادہ فنائیت اپنے اوپر طاری کرے گا ، اسی کے مطابق خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے انعام مل رہے ہوں گے۔اب اس زمانہ میں مہدی اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگئے۔اور ایک چھوٹی سی جماعت آپ کے گرد جمع ہوگئی۔آپ ایسے زمانہ میں آئے ، جب خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے کسی کو ایک پیسہ دینے کی بھی عادت نہیں تھی۔چنانچہ جولوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گرد اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے 374