تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 376

خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم روپیہ ہر مہینہ واپس کر رہا تھا۔خدا تعالیٰ ہر دو جہاں کا مالک ہے۔وہ قرضے اپنے پاس نہیں رکھا کرتا۔وہ اس دنیا میں بھی انعام دیتا ہے اور جو اخروی زندگی میں ملنے والے انعام ہیں، ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ تھا کہ تیرے ماننے والوں کے اموال میں برکت دوں گا۔اس قسم کی اور بہت کی بشارتیں ہیں لیکن میں اس وقت ان کا ذکر نہیں کر رہا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ میں مالی قربانی کی روح کس طرح پیدا کی گئی ؟ جب آہستہ آہستہ خدا کی راہ میں پیسہ خرچ کرنے کی عادت پڑ گئی تو پھر جماعت کے اندر لازمی چندے آ گئے۔پھر وصیت آ گئی ، دسویں حصے کی اور اگر کوئی چاہے تو 113 تک وصیت کر سکتا ہے۔چنانچہ اس میں بڑی بڑی قربانی دینے والے لوگ پیدا ہو گئے۔پھر وصیت کا 10\1 دینے والوں سے کہا گیا کہ جو غیر لازمی چندے ہیں یا نیم لازمی چندے ہیں، وہ بھی دو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تحریک جدید کا آغاز کر دیا۔اور اس کے لئے ، لازمی چندوں کے لئے مالی قربانی کی تحریک فرمائی، جو لازمی چندوں کے علاوہ تھی۔یعنی جو لازمی چندہ جات تھے، مثلاً چندہ عام ہے، چندہ وصیت ہے، یہ اصل اور لازمی چندہ جات ہیں۔لیکن بعض دوسرے چندے بھی ہیں، جن کے متعلق جماعت نے فیصلہ کیا ہوا ہے۔اور وہ بھی گو یا لازمی چندے ہیں۔ان کے علاوہ جماعت نے نہایت بشاشت سے تحریک جدید کے چندے دینے شروع کر دیئے۔یہ 1934ء کی بات ہے۔اس وقت بھی کئی ایک دوستوں نے کہا اور کئی اب بھی مجھے لکھ دیتے ہیں کہ سارے چندوں کو اکٹھا کر کے ایک مد کے اندر لے آئیں۔ایسے لوگوں کے لئے میں دعا کرتا ہوں۔وہ ان مختلف چندوں کی روح کو نہیں پہچانتے۔ہمارا ہر قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ایک جگہ کھڑے ہوئے اور ہلاک ہوئے۔یہ الہی سلسلوں کا اصول ہے، الہی سلسلوں پر جتنے بھی تنزل کے زمانے آتے ہیں، وہ کھڑے ہو کر ہی آئے ہیں۔ایک جگہ کھڑے ہو جانا تو الہی سلسلہ کے لئے موت کے مترادف ہے۔اسی لئے یہ البہی جماعت دعاؤں کے نتیجہ میں کوشش اور تدبیر کے ذریعہ ہر سال پہلے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب تبلیغ اسلام کا یہ بہت بڑا منصوبہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دماغ میں ڈالا تھا تو اس وقت حال یہ تھا کہ گو غیر ممالک میں پہلے بھی کچھ مبلغ گئے ہوئے تھے لیکن جتنے مبلغ تحریک جدید کے اس وسیع اور عظیم الشان منصوبہ کے ماتحت بھجوائے جاتے ہیں، اتنے مبلغ باہر جانے شروع نہیں ہوئے تھے۔اس وقت بیرون ملک نئے نئے احمدیوں کا وہی حال تھا، جو شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے والوں کا تھا۔بیرونی ممالک میں قبول اسلام کرنے والوں کی ابھی کما حقہ تربیت نہیں 376