تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 373
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم إِمَّا شَاكِرًا و إِمَّا كَفُورًا خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء (الدھر: 04) انسان کو یہ اختیار ہے کہ خواہ وہ ہدایت کی راہ پر چل کر شکر گزار بندہ بنے یا گمراہی کی راہوں پر چلتے ہوئے ناشکری کرے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔پھر اس کو مختلف قو تیں اور طاقتیں ، صلاحیتیں اور استعداد میں عطا کیں۔اور ان قوتوں اور صلاحیتوں کونشو و نما دینے اور ان کو ہلاکت سے بچانے کی ہدایت دی۔گویا ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستوں کی نشاندہی کرنے کے بعد فرمایا:۔إِمَّا شَاكِرَا وَ إِمَّا كَفُورًا اے انسان! ہم تجھے صاحب اختیار بناتے ہیں، اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن اور جو تجھے کہا گیا ہے، اس کے مطابق عمل کر اور خدا تعالیٰ سے انعام پا۔اور اگر چاہے تو ناشکری کر اور ان ہدایتوں کا نافرمان بن اور نافرمانی کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی گھاٹا تیرے نصیب میں ہوگا اور اخروی زندگی میں خدا تعالیٰ کے قہر کے عذاب میں مجھے جلنا پڑے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے مختلف مدارج سے گزار کر ترقی دی۔پس ہماری زندگی میں بھی اور ہر دوسری چیز کی زندگی میں بھی تدریجی اصول چل رہا ہے۔یہاں تک کہ پتھروں میں بھی تدریج کا اصول کارفرما ہے۔ہر چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کیا، اس کو قو تیں اور صلاحیتیں دیں، ان کی حفاظت کے سامان پیدا کئے ، ان کی نشو و نما کے لئے ہدایت دی۔مگر یہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِمَّا شَاكِرًا و إِمَّا كَفُورًا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ میری ہدایت کے مطابق عمل کرو اور انعام پاؤ۔یا اطاعت نہ کرو، نافرمانی کرو اور ناشکرے بن جاؤ اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے نعماء کے حصول کے جو سامان پیدا کئے تھے، ان کی طرف تم توجہ نہ کرو اور اس کے نتیجہ میں محرومی ، مہجوری اور خدا سے دوری کی زندگی گزارو۔البی جماعتیں شکر گزار بندوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔اور یہ جو تدریج کا اصول ہے، اس سے وہ اچھی طرح واقف ہوتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لیں، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آہستہ آہستہ ترقی ہوئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ نے مسلمانوں کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دیا تھا۔وعدہ تو ان کو یہ دیا گیا تھا کہ جب تم میں سے خدا کا کوئی بندہ تواضع اور انکساری کی 373