تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 310
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطاب فرمودہ 107 اگست 1976ء فریضہ ادا کر سکیں۔اور انہیں ہدایت کی راہوں پر چلانے والے ثابت ہو سکیں۔یہ کام سکولوں میں اسلامی تعلیم دینے سے بھی ہو سکتا ہے۔لیکن فی الوقت ہمارے لئے احمد یہ سکولز جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔کیونکہ سکول جاری کرنے کے لئے ایک ہی مقام پر بچوں کا ایک معقول تعداد میں ہونا ضروری ہے۔پھر اساتذہ بھی ہونے چاہئیں اور یہاں کے معیار کے مطابق بلڈنگ اور دیگر سامان کی بھی ضرورت ہوگی۔لیکن ابھی امریکہ میں ہماری جماعت نہ صرف یہ کہ مختصر ہے بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بکھری ہوئی ہے۔یوں تو امریکہ کی بہت سی اسٹیٹس میں احمدی موجود ہیں لیکن صحیح معنوں میں منظم جماعتیں، جن سٹیٹس میں قائم ہیں اور جو با قاعدہ نظام کے تحت کام کر رہی ہیں۔ان کی تعداد پندرہ ہے۔ان حالات میں ہم ابھی سکول نہیں کھول سکتے اور سکولوں کے قیام پر اخراجات نہیں کر سکتے۔لیکن ہم اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم اور اسلامی تربیت سے آنکھیں بند کر کے انہیں حالات زمانہ کے رحم و کرم پر چھوڑ بھی نہیں سکتے۔اسے ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ بچے ہماری غفلت کی وجہ سے شیطان کے قبضہ میں چلے جائیں۔ان حالات میں بہتر یہ ہوگا کہ ہم ہر ایسی ٹیسٹ میں، جہاں ہماری جماعتیں قائم ہیں اور احمدی خاصی تعداد میں موجود ہیں، کسی شہر سے باہر دیہی علاقہ میں چندایکڑ زمین خریدیں، وہاں ایک کمیونٹی سنٹر (Community Centre) تعمیر کریں اور ایک ایسی تربیت گاہ کا اجراء کریں، جس میں بچے تعطیلات کے زمانہ میں آکر رہیں۔اس تربیت گاہ یا کمیونٹی سنٹر میں انہیں اسلام کی تعلیم دی جائے اور اسلامی آداب سکھا کر خالص اسلامی ماحول میں ان کی تربیت کا انتظام کیا جائے۔بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں اور بظاہر چنداں اہم نظر نہیں آتیں لیکن اپنے نتائج کے اعتبار سے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔مثال کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔یا اس قسم کے بعض دوسرے چھوٹے چھوٹے احکام ہیں۔بظاہر یہ معمولی احکام نظر آتے ہیں۔لیکن معاشرہ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایک معین اور مخصوص شکل اختیار کرتا ہے۔اور انہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے کردار کی خوبی انسان میں پیدا ہوتی ہے۔اور یہ چھوٹی چیزیں ہی ایک بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہیں۔انہیں چھوٹی چیزیں سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔بچوں کے اندر اسلامی روح پیدا کرنے میں ان باتوں کو بے انداز اہمیت حاصل ہے۔انہیں بچوں کے اندر راسخ کرنا اور انہیں ان کا عادی بنانا ضروری ہے۔ان کمیونٹی سنٹرز میں بچوں کو اسلام کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں اسلامی آداب کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔جس منصوبہ کا اس وقت میں اعلان کر رہا ہوں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان پندرہ سٹیٹس میں، جن 310