تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 311
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جد پنجم خلاصہ خطاب فرموده 07 اگست 1976ء میں ہماری باقاعدہ منتظم جماعتیں قائم ہیں اور احمدی وہاں ہیں بھی خاصی تعداد میں، کسی نہ کسی شہر کے باہر زمینیں خرید کر وہاں تربیت گاہیں قائم کی جائیں۔اور ان کے گرد پھلدار پودے لگا کر باغ وغیرہ لگائے جا ئیں۔تا کہ جب بچے تعلیم و تربیت کی غرض سے تعطیلات میں وہاں آکر ر ہیں تو انہیں وافر مقدار میں پھل بھی مل سکے۔اور وہ وہاں ہنسی خوشی رہ سکیں۔الغرض جتنی جلد ممکن ہو سکے ، سر دست پندرہ سٹیٹس میں تفریحی اور تعلیمی مراکز ( Recreational & Educational Centres) قائم ہو جانے چاہئیں۔اور ان میں تربیتی کورسوں کا سلسلہ شروع کر دینا چاہئے۔خواہ یہ کورس دو، دوماہ کے لئے ہی ہوں“۔ان مراکز کی اصل بنیادی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔ہر مخلص احمدی کا، بلکہ ہرمخلص احمدی بچے کا ، زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔اور زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق ہی اس کے لئے ایک مابہ الامتیاز کی حیثیت رکھتا ہے۔تمام روئے زمین کے انسانوں کے لئے احمدیت کا پیغام ہی یہ ہے کہ ہر شخص کے لئے خواہ وہ جدید ہو یا قدیم یعنی خواہ اس نے متمدن ماحول میں پرورش پائی ہو یاوہ جنگلات میں رہنے والا ریڈ انڈین ہو، اس کے لئے موقع ہے کہ وہ اسلام کی بے مثال ولا زوال تعلیم پر عمل پیرا ہو کر زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرے۔ان مراکز کے قیام سے ہماری یہی غرض ہے کہ احمدی نو نہالوں میں بچپن کے زمانہ میں ہی زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے کی لگن پیدا ہو جائے۔اور پھر وہ اپنے خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر کے یہ اہلیت اپنے اندر پیدا کریں کہ دوسروں کا بھی خدا کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر اسکیں“۔حضور نے فرمایا:۔اس پورے منصوبہ کا عرصہ پانچ سال ہوگا۔ان پانچ سالوں میں ہم انشاء اللہ اپنے بچوں کو اندھیرے سے بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔کیونکہ اس عرصہ میں انشاء اللہ العزیز ایسے ادارے معرض وجود میں آجائیں گے ، جہاں سے انہیں اللہ کا نوریل سکے گا۔بچوں اور نئی نسلوں کی تربیت کے سلسلہ میں حضور نے تربیتی مراکز کے قیام کے علاوہ بعض اور ضروری اقدامات کا بھی ذکر کیا اور اس ضمن میں فرمایا کہ ہمیں اس غرض کے پیش نظر بزرگوں کے کارناموں پر مشتمل کثیر تعداد میں چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی تیار کرنا ہوں گی۔تاکہ بچے اپنے بزرگوں کے کارناموں سے آگاہ ہو کر اپنے آپ کو ایسے ہی بلکہ ان سے بڑھ کر کارنامے سرانجام دینے کے قابل بنائیں“۔311