تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 299
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء وہاں اسلام کے خلاف تعصب دور نہیں ہوا۔یہ رفتہ رفتہ دور ہوگا۔اور مسجدوں کی تعمیر کے نتیجہ میں وہاں کی بتدریج فضا بد لے گی۔اسی ضمن میں حضور نے ایک اور امر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یورپ میں پریس کانفرنس میں ایک سوال مجھ سے یہ پوچھا گیا تھا کہ آپ یورپ میں اسلام کو کس طرح پھیلائیں گے؟ سوال کرنے والے کا مقصد یہ تھا کہ (نعوذ باللہ ) اسلام تو تلوار سے پھیلا تھا اور تلوار ہم نے تم سے چھین لی ہے۔اس لئے اب تم اسلام کو دنیا میں پھیلانے میں کیسے کامیاب ہو سکتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ ہم تمہارے دل جیت کر اسلام کو یورپ میں پھیلائیں گے۔اسے اس جواب کی توقع بی تھی۔اس لئے وہ مبہوت ہوئے بغیر نہ رہا۔بہر حال دنیا خواہ کتنی ہی بے توجہی سے کام لے اور دور بھاگے، یہ نہیں ہوسکتا کہ اسلام غالب نہ آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے تو فرشتے آسمان سے نازل ہو کر انہیں اسلام کی طرف راغب کریں گے۔فی الوقت تو ذہنوں کی تختی صاف ہو رہی ہے تا کہ اسلام کا نقش اچھا جم سکئے“۔اس ضمن میں حضور نے ایک نہایت ہی اہم ضرورت کی طرف توجہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’اس وقت دنیا کو حض اسلامی تعلیم کی نہیں بلکہ اسلام کے عملی نمونہ کی ضرورت ہے۔جبھی تو پریس کانفرنس میں ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی تعلیم تو اچھی ہے لیکن اس کا عملی نمونہ کہیں نظر نہیں آتا؟ یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب محض زبان سے نہیں دیا جا سکتا۔وہ تو جبھی مطمئن ہوں گے ، جب اسلام کا حقیقی عملی نمونہ ان کے سامنے آئے گا۔اسی لئے محض عقیدہ کبھی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اصل اہمیت عمل ہی کو حاصل ہوتی ہے۔احمدی ہونے کی حیثیت میں ہم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم اپنی ذاتی فلاح و نجاح کے لئے اسلام پر کما حقہ عمل کریں۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رہنمائی اور فلاح و نجاح کے لئے اپنی زندگیوں میں اسلام کا حقیقی نمونہ پیش کریں۔اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے اور احمدیت کے طفیل ہمیں یہ نعمت میسر ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور ان کی غمخواری کا جذ بہ بھی بدرجہ اتم موجود ہو۔اور ہمارے اندر دوسرں کی فلاح و نجاح کی تڑپ پائی جاتی ہو۔اس تڑپ کا لازمی تقاضا ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ ہم دوسروں کے سامنے اسلام کی حسین و جمیل تعلیم کا عملی نمونہ پیش کریں۔اور اس طرح انہیں راہ 299