تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 300

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم راست کی طرف لائیں۔پس ہماری یہ ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنی ذات کی خاطر بلکہ دنیا کے واسطے رحمت کے دروازے کھولنے کی خاطر اسلام کا دل موہ لینے والا عملی نمونہ اپنی زندگیوں میں پیش کرنا ہے۔اس امر کو مزید واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اس میں شک نہیں، مالی قربانی بھی اہم ہے۔لیکن مالی قربانی ہی تو کافی نہیں۔اسی لئے خدا تعالی نے قرآن کریم میں مال یا جان کا اتنا مطالبہ نہیں کیا، جتنا کہ زندگی کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ نہ مجھے تمہارے مال کی چنداں ضرورت ہے اور نہ تمہاری جان کی ہی ضرورت ہے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ تم پوری زندگی میری راہ میں وقف کر دو۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام خواب کے ذریعہ ایک خدائی اشارہ پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے کہا، میں تم سے جان نہیں مانگتا بلکہ اس سے بھی بڑا ایک فدیہ مانگتا ہوں۔اور وہ ہے، اپنی پوری زندگی کو میری راہ میں وقف کرنا۔چنانچہ نہ صرف انہوں نے بلکہ ان کی نسلوں نے اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کر دکھائیں۔اور وہ زندگی بھر بڑی بڑی تکلیفیں اپنے پر وارد کر کے خدمت دین کا فریضہ ادا کرتے چلے گئے“۔حضور نے فرمایا:۔اس وقت ایک عظیم جدوجہد جاری ہے۔ایک طرف خدا تعالیٰ ہم سے دین کی سربلندی کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرنے اور کرتے چلے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور دوسری طرف دنیا انسان کو خدا تعالی سے دور لے جانے میں کوشاں ہے۔اس عظیم جدو جہد کے وقت اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹی سی غریب جماعت کو توفیق دی ہے کہ وہ خدمت اسلام کے لئے قربانیاں پیش کرتی چلی آرہی ہے۔اور اس نے خدمت اسلام کو اپنا مقصد عظیم قرار دے رکھا ہے۔اس میں شک نہیں، قربانیاں بھی عظیم ہیں ، جن کا ہم سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔لیکن انعام بھی بہت عظیم ہے، جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ خدا تعالی ہمیں ساتھ کے ساتھ اپنے انعاموں سے نواز رہا ہے۔مثال کے طور پر ستمبر 1974ء کے بعد بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسی رو چلائی ہے کہ وہاں اب تک ہزاروں گھرانے احمدی ہو چکے ہیں۔اور جو احمد کی ہوئے ہیں ، وہ دن بدن ایمان اور اخلاص میں پختہ سے پختہ تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان تھوڑی سی قربانی کرتا ہے، اس کے جواب میں خدا تعالیٰ اپنی پوری کائنات اور اپنی پوری صفات کے ساتھ اس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے۔پھر خدا اپنے بندے کو اس قدر نوازتا ہے کہ عام محاورہ کی رو سے حد کر دیتا ہے۔یہ سب صلہ ہوتا ہے، معمولی سی 300