تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 298

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء حضور نے فرمایا:۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم دو مستقبل کا علم تو خدا کو ہے، ہم آئندہ کے بارہ میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ چاہے تو چند سال میں ایسا انقلاب لا سکتا ہے۔ابھی تو تبلیغ اسلام کا جو کام ہوا ہے اور اس کے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں، وہ آنے والے انقلاب کی ابتدا ہے۔ایک روشنی ضرور نمودار ہوئی ہے۔لیکن یہ وہ روشنی نہیں ہے، جو سورج نکلنے کے بعد چاروں طرف پھیلتی چلی جاتی ہے۔بلکہ یہ وہ روشنی ہے، جو سورج نکلنے سے پہلے نظر آتی ہے۔یہ صحیح ہے کہ ابھی بہت سے یورپی ملکوں میں احمدیوں کی تعداد بہت کم ہے۔اور بہت کم لوگوں نے وہاں اسلام قبول کیا ہے۔لیکن ابتدا میں تعداد کو چنداں اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔اہمیت تو اس مخفی تبدیلی کو حاصل ہوتی ہے، جو رفتہ رفتہ فضا میں آرہی ہوتی ہے۔کیونکہ یہ تبدیلی ہی آگے چل کر ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بنتی ہے۔جب میں 1967ء میں یورپ کے دورہ پر آیا تھا تو ہالینڈ میں پریس کانفرنس میں وہاں کے ایک صحافی نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ آپ نے اس وقت تک ہالینڈ میں کتنے احمدی بنائے ہیں؟ اس سوال سے اس کا مقصد یہ تھا کہ جب میں کہوں گا کہ چند در جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے تو تمام صحافیوں پر یہ اثر پڑے گا کہ یہ کوئی قابل لحاظ تعداد نہیں ہے۔اور یہ کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ نہیں بن سکتی۔میں نے اسے جواب دیا کہ مسیح علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی میں جتنے لوگوں کو عیسائی بنایا تھا، اس سے زیادہ تعداد میں چند سال کے اندر اندر ہم یہاں لوگوں کو مسلمان بنا چکے ہیں۔یہ غیر متوقع جواب سن کر وہ بالکل خاموش ہو گیا، جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔دوسرے صحافی اس جواب سے بہت محظوظ ہوئے۔سو حقیقت یہی ہے کہ اشاعت اسلام کے ضمن میں سوال اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کا نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ فضا میں بتدریج تبدیلی آرہی ہے یا نہیں؟ اور فضا میں تبدیلی مسجد کی وجہ سے آئی ہے۔فضا کو بدلا ہے تو مسجد نے بدلا ہے۔مشن ہاؤس تو مبلغ کی ضرورت کے لئے ہوتا ہے۔لیکن مسجد اللہ کا گھر ہے۔اس میں اللہ کی باتیں ہوتی ہیں۔اور جب اللہ کی باتیں ہوتی ہیں تو وہ اندر ہی اندراثر کر کے بد خیالات کو، جو متعصب ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں، زائل کر دیتی ہیں۔جوں جوں بدخیالات زائل ہوتے ہیں، لوگوں کے نقطہ نظر میں تبدیلی آتی چلی جاتی ہے۔اور اسلام کی اشاعت کے لئے فضا سازگار ہوتی چلی جاتی ہے۔اس وقت یورپ میں صورت حال یہ ہے کہ لوگوں نے وہاں ساری عمر پادریوں سے اسلام کے خلاف باتیں سنی ہیں۔اب انہوں نے عیسائیت اور پادریوں کو تو چھوڑ دیا ہے لیکن پادریوں نے اسلام کے خلاف جو اعتراض ان کے ذہن نشین کرائے تھے، انہیں انہوں نے ابھی تک ترک نہیں کیا۔اسی لئے ابھی 298