تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 230 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 230

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اندر دھڑک رہے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے والے ہیں۔اس وقت بھی بیرونی ممالک میں وہ لوگ بھی ہیں، جو شاید سارا سال بمشکل دو روپے دیتے ہوں گے یا پانچ روپے دیتے ہوں گے۔اتنے غریب لوگ بھی ہیں۔لیکن پانچ روپے دے کر وہ اس سے زیادہ قربانی دے رہے ہیں ، جو ایک ملیٹر لاکھوں روپے دے کر کرے۔کیونکہ پانچ روپے دینے سے ان کو خدا کی راہ میں بھوک کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ان کو کچھ ایسے کھانے کھانے پڑتے ہیں، جو ان کے روز مرہ سے کم ہوتے ہیں۔اور اس اخلاص کے ساتھ جو قربانیاں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کی جاتی ہیں، ہم دعا بھی کرتے ہیں ( میں بھی اور ساری جماعت بھی ) اور ہم اپنے رب کریم سے امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ قربانیاں قبول ہوں گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نتیجہ نکلا کرتا ہے، خدا کی نگاہ دولت کے انبار دیکھ کر وہ نتائج نہیں نکالتی۔اس لئے کہ وہ دولت کے انبار کا محتاج نہیں ہے۔وہ تو غنی ہے، وہ تو صمد ہے، اس کو تو اموال کی ضرورت نہیں۔وہ تو مالک کل ہے، ہر چیز اس نے پیدا کی اور وہ اس کا مالک ہے، وہ تو جب ثواب کے رنگ میں نتیجہ نکالتا ہے تو وہ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ دلوں کے تقویٰ کو دیکھا کرتا ہے۔وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ ایک غریب ، دنیا کا دھتکارا ہوا، پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس ، کھانا اسے ملتا نہیں اور اگر ملے بھی تو مالی قربانیاں پیش کرنے کی ندا جب اس کے کان میں پڑتی ہے تو باوجود اس غربت کے وہ ایک پیسہ، اٹھنی، روپیہ ( بہر حال تکلیف اٹھاتا ہے اور ) میرے حضور پیش کر دیتا ہے۔یہ چیز جب اس کی نگاہ میں آتی ہے تو پھر وہ نتائج نکالتا ہے اور پھر وہ اتنے انقلابی نتائج ہوتے ہیں کہ ( انشاء اللہ) دنیا دیکھے گی کہ وہ چیز ، جو آج انہونی نظر آتی ہے کہ اسلام کیسے پھیلے گا؟ وہ پوری ہو کر رہے گی۔ایک طرف بڑی زبردست Godless ( گاڈلیس ) سوسائٹی ہے۔جو کہتی ہے کہ ہم خدا سے بیزار ہیں۔تم بھی خدا سے بیزار اور خدا بھی تمہارے اعمال اور منصوبوں سے بیزار۔لیکن خدا تم سے پیار کرنے والا ہے۔تم اس کی مخلوق ہو۔اس نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ تم چاہو، نہ چاہو، ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ تم اس کی طرف آؤ گے، کھینچے چلے آؤ گے۔اور تمہیں اس وقت تک چین نہیں آئے گا، جب تک کہ تمہاری گردنیں اس کے پاؤں کے اوپر جھک نہیں جائیں گی۔پس ہم جو حقیقت سے آگاہ ہیں، ہم جو خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو پہچاننے والے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ Godless society ( گاڑ لیس سوسائٹی) کے نعرے لگانے چند دنوں کی بات ہے، چند سالوں کی بات ہے۔ہوگا وہی ، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت قرآن کریم کی پیشگوئیوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی۔230