تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 231
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء پھر دوسری طرف سرمایہ دار ممالک ہیں۔جہاں عیسائیت بڑی طاقتور ہے لیکن اندر سے کھوکھلی ہے۔تاہم ظاہر میں بڑی طاقت ہے۔ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔بڑے پیسے ہیں۔میں نے شمار تو نہیں کیا لیکن میرے خیال میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں پادری ہیں، جو دنیا میں کام کر رہے ہوں گے۔بے تحاشا ان کا لٹریچر چھپ رہا ہے۔مگر وہ مانتے ہیں کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔اسے تسلیم بھی کرتے ہیں اور اپنے رسالوں میں بھی شائع کرتے ہیں کہ جہاں جہاں افریقہ میں احمدی ہیں، وہاں عیسائیت پسپا ہو رہی ہے۔ایک وقت میں انہوں نے کہا تھا کہ افریقہ خداوند یسوع مسیح کی جھولی میں ہے۔وہ وقت بھی کہ جب وہ یہ نعرے لگاتے تھے اور آج وہ مجبور ہو گئے ہیں یہ تسلیم کرنے پر کہ ہم ایک عیسائی بناتے ہیں تو جماعت دس مسلمان بنالیتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ ہماری کوششوں یا ہمارے اموال کا نتیجہ نہیں ہے۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دولت کے انبار محض دولت کے انبار دیکھ کر تو خدا تعالیٰ نتائج نہیں نکالا کرتا۔وہ تو دلوں کو شٹولتا ہے۔( یہ محاورہ ہے ورنہ اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔وہ تو دلوں کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔اگر ان میں تقویٰ ہو، اگر خدا تعالیٰ ان میں اپنا پیار پالے، اگر ان دلوں میں خدا تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عشق پائے تو وہ ان کے دو پیسے میں وہ برکت ڈالے گا کہ ساری دنیا کے اموال وہ برکت نہیں پیدا کر سکتے۔پس تحریک جدید کو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وسیلہ بنایا ہے۔جس کے نئے سال کا میں نومبر کے شروع میں اعلان کیا کرتا ہوں۔یہ جو سال نو ہے۔یہ دفتر اول کا بیالیسواں سال اور دفتر دوم کا بتیسواں سال اور دفتر سوم کا گیارھواں سال ہے۔پچھلے سال یعنی دفتر اول کے اکتالیسویں سال اور دفتر سوم کے دسویں سال کے مجموعی وعدے نو لاکھ ، چوالیس ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔جبکہ میں نے جو تحریک کی تھی ، وہ سات لاکھ نوے ہزار کی تھی۔غرض مخلصین جماعت نے اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے جتنی تحریک کی گئی تھی ، اس سے زیادہ کے وعدے کر دیئے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں ان وعدوں کے پورا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ہر سال ہمارے وعدے پہلے سے کچھ زائد ہوتے ہیں۔کیونکہ ہم ایک جگہ ٹھہر نے والی جماعت نہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں اور میں دعا بھی کرتا ہوں اور کرتا بھی رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا کرے کہ آئندہ سال ہمارے وعدے پچھلے سال سے یعنی جو سال گذر رہا ہے، اس کے وعدوں سے زائد کے ہو جائیں۔اس وقت تک جو گذشتہ سال کی وصولی ہوئی ہے، وہ قریباً پچاس فیصد ہے۔لیکن 231