تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 229

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء احسان اور اس میں جو جذب پایا جاتا ہے، اس کے ذریعہ سے غیر مسلموں کو کھینچنا، یہ مہدی علیہ السلام کی مہم ہے اور یہ جہاد جو شروع ہو چکا ہے، اس سے باہر کوئی اور جہاد ہمیں نظر نہیں آتا۔لیکن تاہم ہر کوشش جو اسلام کو پھیلانے کی ہے، خواہ وہ باہر ہی ہو، ہم اس کی قدر کریں گے، ہم اس سے پیار کریں گے، وہ ہماری طرف ہی لوگوں کو لانے والی ہے۔ان کو خواہ نظر آئے یا نہ آئے۔بہر حال تحریک جدید سے جو ایک چھوٹا سا کام شروع ہوا تھا، اب وہ بہت پھیل گیا ہے۔اب اس کی شکل بدل گئی ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ 1944ء تک ہمارے رجسٹروں میں ایک پیسہ بھی بیرون ہندوستان کے چندوں کا نہیں تھا۔اور اب سوائے ان بنیادی اخراجات کے، جو ان پر بہر حال مرکز میں ہوتے ہیں، مثلاً لٹریچر کی اشاعت پر خرچ اور جامعہ احمدیہ میں مبلغ بنانے پر خرچ ، باقی جو ان کے روز مرہ کے اخراجات ہیں، ان میں بیرون پاکستان کی ساری دنیامل کر اجتماعی زندگی میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی ہے۔اور پاکستان کی ایک پیسے کی بھی محتاج نہیں رہی۔اتناز بر دست انقلاب آچکا ہے دنیا میں۔یہ معمولی بات نہیں ہے۔تم سوچو 1944ء میں یہ بیرون ہندوستان کی دنیا ( اس وقت پاکستان نہیں بنا تھا۔) مرکز کی پیسے پیسے کی محتاج تھی۔ایک پیسہ بھی ہماری لسٹ میں ان کی آمد کا نظر نہیں آتا۔اور وہ جو اس وقت پیسے پیسے کی محتاج تھی ، آج ایک پیسے کی بھی محتاج نہیں ہے۔اتنا انقلاب عظیم آ گیا ہے۔وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ بعض جگہ نئی تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور وہ ایریا، وہ ملک، وہ ریجن خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تو پاکستان سے باہر کے دوسرے ممالک کہتے ہیں کہ ہم تمہاری مدد کو آتے ہیں۔اور اب تو میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ ایک مسجد کی تعمیر کا قریباً سارا خرچ زیادہ تر انگلستان کی جماعتیں اٹھائیں گی۔لیکن اس کا کوئی 1/5 امریکہ کی جماعتیں اور 5 فی صد کے قریب سکنڈے نیویا کی جماعتیں اس مسجد پر خرچ کریں گی۔اس کے لئے ہمیں انہوں نے ثواب سے محروم کر دیا ہے۔یا یوں کہیں کہ ہمارے حالات نے ہمیں محروم کر دیا ہے۔دعا کریں کہ حالات بدل جائیں اور درست ہو جائیں۔اور پھر جو گلا منصوبہ ذہن میں آیا ہے، یعنی اوسلو(ناروے) کی مسجد کا، اس کی تعمیر کی ساری کی ساری ذمہ داری جماعت احمدیہ انگلستان پر ہے۔میں نے بتایا تھا کہ انگلستان کی جماعت کے وعدوں کے دو حصے ہیں۔ان کا حساب الگ الگ ہے۔جو دوسرا حصہ ہے، ان کی جو پہلی رقم ملتی ہے ، وہ ساری اوسلو کی مسجد پر خرچ کر رہے ہیں۔کسی اور ملک کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔کہتے ہیں، تمہارے پاس پیسہ کہاں سے آگیا ہے؟ ہماری دولت پٹرول کے چشمے نہیں ہیں۔ہماری دولت بڑے بڑے کارخانے نہیں ہیں۔جماعت احمدیہ کی دولت و مخلص دل ہیں، جو منور سینوں کے 229