تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 227

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء خالصہ انسانی پیار کا جلوہ ہے۔مجھے تو یہی نظر آتا ہے۔امید ہے کہ آپ کو بھی ایسا ہی نظر آئے گا۔پس جس وقت انسان کو بھوک کی تکلیف کا اندیشہ پیدا ہوا تو سب کو برابر کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر تکلیف اٹھائیں گے تو ہم سب اٹھا ئیں گے۔اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ اس تھوڑے میں برکت ڈالی اور ان کی سیری کے سامان پیدا کئے۔میرے علم میں نہیں ہے کہ صحابہ نے کہیں یہ بھی ذکر کیا ہو کہ اس کے باوجود ہمیں بھوک کی بہت تکلیف اٹھانی پڑی۔کیونکہ اصل میں غذا کی مقدار نہیں بلکہ اس مقدار کا انسان کے اندر سیری کا احساس پیدا کرنا ، اصل چیز ہے۔مختلف آدمی مختلف مقدار میں غذائیں کھاتے ہیں۔کسی کو ایک چھٹا تک آٹا سیر کر دیتا ہے اور اس کے اندر سیری کا احساس پیدا کر دیتا ہے اور کسی کو آدھ سیر آٹا بھی سیر نہیں کرتا۔ایسے لوگ بھی میرے علم میں ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور انسان کے جسم کی ضروریات کو تھوڑے میں پورا کر دے تو وہ اس پر قادر ہے۔اور اپنے بندوں سے وہ بھی اس طرح بھی پیار کرتا ہے کہ تھوڑے میں اتنی برکت ڈالتا ہے کہ انسان کے جسم کی ضرورتیں، اس کے پیارے بندوں کے جسم کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔اس زمانہ میں زندگی کے وقف کے لئے اعلان ہوتا ہے، اپنے اموال کے خرچ کرنے کے لئے اعلان ہوتا ہے۔اس طرح میدان جنگ کا اعلان نہیں ہوتا۔کیونکہ اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے تو یہ زمانہ آیا ہے اور اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے تو مہدی معہود علیہ السلام مبعوث ہوئے ہیں اور اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے تو ہمیں مہدی معہود سے متعلق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی پیشگوئیاں نظر آتی ہیں۔اس پیار سے اسلام کو پھیلانے کے لئے آج کی دنیا میں اموال کی ضرورت ہے۔پہلے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نالی۔کیونکہ اصل ندا تو آپ ہی کی ہے، باقی تو ساری ندائیں صیلی ہیں۔اور اب میں نے مہدی کے زمانے کی ندا لے لی۔بیچ کا سارا زمانہ ایسا ہے، جس میں خدا تعالیٰ کے پیارے اور محبوب اور برگزیدہ بندے خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے اپنے گرد جمع ہونے والے مخلصین سے مالی قربانیاں بھی لیتے رہے ہیں۔پس ہر انسان کو یہ نہیں کہا کہ تو خود فیصلہ کر کہ تو نے خدا کو خوش کرنے کے لئے کہاں اور کس طرح دینا ہے؟ بعض حالات میں چھوٹی چھوٹی ایسی قربانیاں ہیں، جن کے متعلق اس کو کہا کہ تو آپ فیصلہ کر لیا کر مثلا زکوۃ پر اس کے بعض اخراجات وغیرہ ہیں۔لیکن ان کی حد بندی بھی خود اسلام نے کر دی ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی آواز، تلقین یا ندا ہے، جو براہ راست یا بالواسطہ اٹھتی اور بلند ہوتی ہے۔یہ آواز بالواسطہ آپ کے مخلصین ، آپ کے اطاعت گزار، آپ 227