تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 228

خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کے عشق اور محبت میں فنا ہونے والوں کے ذریعہ سے اٹھتی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس وقت اسلام کو اس بات کی ضرورت ہے، اس کے لئے آگے آجاؤ۔اس زمانہ میں جو ساری دنیا میں ایک جال پھیلنا تھا تبلیغ اسلام کا، اشاعت اسلام کا ، اس حسین تعلیم کو دنیا کے سامنے رکھنے کا، اس پیاری تعلیم سے پڑھے لکھوں کو متعارف کرانے کا ، اس کے لئے ایک وقت میں جماعت احمدیہ کی تاریخ میں وہ وقت آیا کہ خدا کی طرف سے ہمیں باہر نکلنے کا حکم ہوا اور اس کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کو قائم کیا۔جیسا کہ ہر اچھے درخت کی ابتداء بھی ایک چھوٹے سے نحیف اور کمزور پودے سے ہوتی ہے۔تحریک جدید کی ابتداء بھی اسی طرح ہوئی۔لیکن آج وہ ایک بہت بڑا درخت بن گیا ہے اور سارا سال ہی پھلوں سے لدا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس درخت میں اتنی برکت ڈالی ہے کہ اس کی شاخیں ایک طرف افریقہ کے صحراؤں میں پھیلی ہوئی ہیں اور دوسری طرف شمالی امریکہ کی گنجان اور تہذیب نو کی آبادیوں کے اندر پھیلی ہوئی ہیں۔اور وہاں چھوٹے چھوٹے جزیرے بن رہے ہیں، جو ان نو تہذیب یافتہ لوگوں کونئی تہذیب کے گند اور اس کی نحوست سے بچا کر اسلام کی حسین تعلیم کے اوپر قائم کر رہے ہیں۔ان جزیروں میں جو ہمارے احمدی رہ رہے ہیں، ان کی زندگیاں بالکل مختلف ہیں۔پھر ایک طرف اس کی شاخیں جاپان میں چلی گئیں اور آسٹریلیا میں چلی گئیں ، جنوبی امریکہ میں چلی گئیں، یورپ اور انگلستان میں اور اس مڈل ایسٹ میں چلی گئیں ، جس کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید وہاں بڑا تعصب پایا جاتا ہے اور ہمارے لئے اس کے دروازے کھلے نہیں۔وہاں بھی اگر چہ کثرت سے نہیں لیکن دروازے کھلے ہیں ، وہ لوگ بھی احمدی ہوتے ہیں۔قریباً ہر ملک ایسا ہے، جہاں کے مقامی باشندوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے۔اور احمدیت کو جب مسلمان قبول کرتا ہے تو بعض دفعہ کہتے ہیں کہ مسلمان احمدیت کو کیوں قبول کرے، اسے کیا فائدہ؟ وہ اس لئے قبول کرے کہ احمدیت قبول کر کے دنیا میں اسلام کی اشاعت کا جو انتظام ہوا ہے اور ایک مہم جو جاری ہوئی ہے اور دنیا میں اشاعت اسلام کا ایک جہاد جو شروع ہو چکا ہے، اس میں وہ شخص شامل ہو جاتا ہے۔اور احمدیت سے باہر حقیقی معنوں میں ایسا کوئی سامان نہیں ہے۔باقی دنیا دار پیسے بھی بڑے خرچ کرتے ہیں۔اور ہم قدر کرتے ہیں بڑی بڑی مساجد کی ، جو بنائی جاتی ہیں۔اور ہم قدر کرتے ہیں ان پیسوں کے مساجد پر خرچ ہونے کی۔اور ہم دعائیں کرتے ہیں کہ خداوہ دن بھی لائے کہ جب یہ مساجد نمازیوں سے بھی بھر جائیں۔لیکن یہ سعی اور کوشش اور یہ جہاد کہ اسلام کے حسن اور 228