تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 226
خطبہ جمعہ فرمودہ 07 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم پر قائم ہوگی۔اس محبت کے نتیجہ میں جو اسلام ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ہمارے ذمے یہ لگایا گیا ہے کہ ہم اسلامی تعلیم کو، اسلام کی پیار کی تعلیم کو اور بے نفس خدمت کی تعلیم کو ان کے سامنے پیش کریں۔اس اعتراض کو جو صدیوں سے اسلام پر کیا جارہا ہے، اس اعتراض کو کہ اپنے مذہب کو انہوں نے چھوڑ دیا مگر ان کے دماغ اسلام پر اس اعتراض کو نہیں چھوڑ سکے، اس اعتراض کو آج ہم نے دور کرنا ہے، ان کے دلوں سے اس کو مٹانا ہے، ان کے ذہنوں سے اس نقش کو ہم نے مٹادینا ہے اور ان کو مجبور کرنا ہے۔اسلام کی محبت اور پیار کی تعلیم پیش کر کے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے اسلام کی جو اتنی بڑی تعلیم ہے، وہ ان کے سامنے پیش کر کے اور اس اعتراض کو کلیۂ جڑ سے اکھیڑ کر باہر پھینک دینا ہے۔اور اس بات پر انہیں قائم کرنا ہے کہ اسلام واقع میں پیار اور محبت کے ساتھ پھیلا تھا۔اور اس قدر ز بر دست انقلابات سے بھری ہوئی اس دنیا میں، اس معمورہ ارض پر ( کہ پہلے اس قسم کا معمورہ نہیں تھا) اسلام کا پیار کے ساتھ پھیل جانا، یہ ثابت کرے گا کہ پچھلے زمانوں میں بھی اسلام پیار سے پھیلا تھا۔اور یہ اعتراض غلط ہے کہ اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کی ضرورت پڑی۔اس پیار کو پھیلانے کے لئے ، اس پیار کولوگوں تک پہنچانے کے لئے وقت کی بھی ضرورت ہے، تکالیف کے برداشت کرنے کی بھی ضرورت ہے ، اموال کی بھی ضرورت ہے اور اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ اسلام اور اسلامی تعلیم کی روشنی میں ایک مسلمان خدا کی مخلوق کی خدمت پر مامور ہے۔بعض نو جوانوں کو بعض حالات میں غصہ آتا ہے تو میں ان کو سمجھایا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں یعنی جماعت احمدیہ کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے، مارنے کے لئے پیدا نہیں کیا۔اور حقیقی زندگی وہ ہے، جو خدا میں ہو کر گزاری جائے۔باقی تو اگر انسان کی زندگی حیوان کی زندگی سے مختلف نہ ہو تو وہ کیا زندگی ہے؟ لیکن انسان کی وہ زندگی ، جو خدا میں ہو کر گزاری جائے ، وہ انسان کی حقیقی زندگی ہے۔اور اس قسم کی زندگی دنیا کو دینے کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد کی گئی ہے۔اور میں نے بتایا ہے کہ اس کے لئے جہاں اور بہت سی اور مختلف قسم کی عطایا میں سے خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے، وہاں مال میں سے خرچ کرنے کے لئے بھی بلایا جاتا ہے۔پس کبھی تو ان حالات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس تلوار کے، جو اسلام کے خلاف میان سے نکلتی تھی ، فساد اور شر سے مسلمان کو بچانے کے لئے مسلمان کو بلاتے تھے اور کبھی جہاد کے سفر میں راشن کم ہو جا تا تھا تو اعلان کرتے تھے کہ جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ خزانے میں جمع کرا دے۔جس کے پاس پانچ کھجوریں ہیں ، وہ بھی اور جس کے پاس پانچ من کھجور نہیں ہیں، وہ بھی۔اور وہ برابر کی تقسیم ہو جائیں۔یہ 226